گیم چینجر پاک سعودی دفاعی معاہدے کے پیچھے شہباز اور عاصم منیر کا ٹیم ورک
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور اسٹرٹیجک تعاون کے تاریخی معاہدے کو وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اور شاندار رابطہ کاری کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے دی نیوز کو بتایا کہ اس وقت ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اعتماد اور باہمی یقین کی جو سطح موجود ہے وہ پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی، اور یہی اتحاد پاکستان کو قومی اہمیت کے بڑے اہداف حاصل کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے ایک قریبی معاون کا کہنا تھا کہ دونوں شخصیات کے درمیان ایک منفرد اور ہم آہنگ تعلق ہے جو خالص قومی مفاد پر مبنی ہے اور پاکستان کی ترقی پر مرکوز ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان کے درمیان رابطہ بے رکاوٹ ہے اور پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کیلئے ایک مشترکہ ویژن پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران (جس کے اختتام کو پاکستان کی ’’قابلِ ذکر فتح‘‘ قرار دیا گیا) سیاسی اور عسکری قیادت نے غیر معمولی سطح کی یکجہتی اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا۔ ان کا تعاون عسکری، سفارتی اور سیاسی ردعمل کے تمام پہلوؤں پر محیط تھا جس سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ملک کے اسٹریٹجک مقاصد کو واضح اور موثر انداز میں حاصل کیا جائے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اسی اعتماد پر مبنی شراکت داری نے سعودی عرب کے ساتھ ہوئی پیش رفت کی بنیاد رکھی۔ یہ اعلیٰ سطح کا دفاعی معاہدہ، جسے ’’تاریخی‘‘ کہا جا رہا ہے، کئی ماہ کی محتاط اور مربوط سفارتکاری کا عکاس ہے جو اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی پشت پناہی کے ساتھ ممکن ہوا۔ ماضی میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات کی خبریں پھیلائی جاتی رہیں، تاہم دونوں جانب کے ذرائع اس امر کی مسلسل تصدیق کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے، جو ملک نے کئی برسوں میں پہلی بار دیکھا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان یہ ہم آہنگی، جو باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس پر مبنی ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے، چاہے وہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہوں، امریکا کے ساتھ بات چیت یا پھر خطے کی سیکورٹی صورتحال۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عسکری قیادت پاکستان کی کے درمیان کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔