نو مئی کے دو مقدمات میں خدیجہ شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
نو مئی کے دو مقدمات میں خدیجہ شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں سابق وزیر خزانہ کی بیٹی خدیجہ شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
عدالت نے ٹرائل کےلئے پیش نہ ہونے پر خدیجہ شاہ کے جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور حملہ کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
عدالت نے مقدمات میں غیر حاضر رہنے والے 8 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جن میں عمران، فائزہ عظمت، عثمان، احمد مرسلین، حمزہ سہیل اور محمد خالد شامل ہیں۔
عدالت نے دو ملزمان عبد الرزاق اور صفدر کیخلاف اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا۔
ملزم عبد الرزاق اور ملزم صفدر جناح ہاؤس حملہ کیس میں نامزد ہیں، دونوں ملزمان وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر پیش نہیں ہوئے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے گیس کنکشن کی پالیسی گائیڈ لائن جاری، صارفین آن لائن درخواست دے سکیں گے لندن کا تاریخی فنڈ ریزنگ شو: فلسطین کیلئے 2 ملین ڈالر جمع جی ایچ کیو حملہ کیس: ویڈیو لنک سماعت چیلنج، عمران کو پیش کرنے کیلئے درخواست دائر جسٹس طارق جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے میں اہم پیش رفت وزیراعظم کی جنیوا میں نواز شریف سے ملاقات، پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے سے آگاہ کیا خوارج کی جانب سے مساجد کو فتنہ انگیزی کےلئے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف غیر قانونی افغان باشندے دہشتگردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے وارنٹ گرفتاری جاری خدیجہ شاہ کے مقدمات میں عدالت نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔