مسافر ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کے متعلق وفاقی حکومت کا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے مسافر ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی کی زیرِ صدارت اجلاس میں مسافر ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ اوپن آکشن کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کا اطلاق حالیہ آؤٹ سورسنگ پر بھی ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سالانہ آمدن کے بینچ مارک پر نظر ثانی کی جائے گی جبکہ ریویژن کیلیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، محفوظ ٹرین آپریشن یقینی بنانے کیلیے سیفٹی ڈپارٹمنٹ کو بااختیار ڈائریکٹوریٹ بنایا جائے گا جس کیلیے عملے اور افسران کی ٹرانسفر بھی کر دی گئی۔
پنجاب میں انٹرنیشنل ٹیچرز ڈے پر قابل اساتذہ کو ہیرو ایوارڈز دینے کا اعلان
اجلاس میں گارڈز اور ڈرائیورز کے رننگ رومز کی حالت پر بریفنگ دی گئی جس پر وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ گارڈز اور ڈرائیورز ریلوے کے دست و بازو ہیں، ان کے کمرے، کچن اور واش رومز بہترین ہونے چاہئیں۔ اجلاس میں طے ہوا کہ جدید طرز پر ماڈل رننگ رومز بنائے جائیں گے جس کا آغاز روہڑی، خان پور اور خانیوال سے ہوگا۔
اس موقع پر حنید عباسی نے کہا کہ 30 مارچ 2026 تک 295 ہائی کپیسٹی فریٹ ویگنیں سسٹم میں شامل ہو جائیں گی، شالیمار ایکسپریس کی تمام اے سی اسٹینڈرڈ اور اے سی پارلر کوچز بالکل نئی ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور اور راولپنڈی ریل کاروں کے مسافر بھی بہتر سفر سے محظوظ ہوں گے، دونوں ریل کاروں کی ری فربشڈ کوچیں 11 نومبر تک سسٹم میں شامل ہو جائیں گ۔
جی ایچ کیو حملہ کیس: بانی پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کی درخواست خارج
انہوں ںے مزید کہا کہ لاہور نارووال ٹرینوں کے چاروں ریک بھی 8 جنوری کو موصول ہو جائیں گے، وسائل کم لیکن عزم بڑا ہے ریلوے درست سمت کی طرف گامزن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔