فاٹا ٹریبونل کے سابق چیئرمین اور ممبران کو ہٹانے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ نے فاٹا ٹریبونل کے سابق چیئرمین اور ممبران کو ہٹانے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے خارج کردیں۔
فاٹا ٹریبونل کے سابق چیئرمین اور ممبران کو ہٹانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی نے کی۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزاروں میں فاٹا ٹریبونل کے چیئرمین اور ممبران شامل ہیں، تین برس کے لئے درخواست گزاروں کو فاٹا ٹریبونل میں تعینات کیا گیا، حکومت نے ایک سال بعد ہی درخواست گزاروں کو ہٹادیا ہے جو غیر قانونی ہے، بغیر کسی وجہ سے ان کو عہدوں سے ہٹایا گیا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اسد جان درانی نے کہا کہ ٹریبونل ممبران اور چیئرمین تعیناتی حکومت کا اختیار ہے، نوٹیفکیشن میں بھی لکھا ہے کہ تین سال یا حکومت کی مرضی ہے کہ کب تک ان کو تعینات کرتے ہیں، ٹریبونل میں اب نئے چیئرمین اور ممبران تعینات کئے گئے ہیں اور انھوں نے چارج بھی لیا ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست گزاروں کی استدعا مسترد کردی اور درخواست کو خارج کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔