سیلاب سے تباہ شدہ کھیت کھلیان کی بحالی کیلئے زرعی ایمرجنسی وقت کی ضرورت ہے، ایاز میمن موتی والا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
آل کراچی تاجر الائنس کے چیئرمین نے کہا کہ زرعی ایمرجنسی کا نفاذ صرف کسانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اگر زرعی شعبے کو سہارا نہ دیا گیا تو غذائی قلت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور معاشی بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آل کراچی تاجر الائنس کے چیئرمین و بانی عام آدمی پاکستان ایاز میمن موتی والا نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب نے نہ صرف کسانوں کی محنت ضائع کر دی بلکہ ملک کی غذائی ضروریات کو بھی سنگین خطرات لاحق کر دیئے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، گاؤں و دیہات معاشی مشکلات میں گھر گئے ہیں اور کسان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجر الائنس کے عہدیداران سے ڈیفنس آفس میں ہونیوالی ملاقات میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ اس وقت سب سے بڑی قومی ضرورت یہ ہے کہ حکومت فوری طور پر زرعی ایمرجنسی نافذ کرے، بیج، کھاد اور زرعی آلات پر سبسڈی دی جائے، متاثرہ علاقوں کے کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں اور انہیں نئی فصل کے لیے مکمل معاونت فراہم کی جائے۔
ایاز میمن نے زور دیا کہ سیلاب سے تباہ شدہ زمینوں کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، زرعی ایمرجنسی کا نفاذ صرف کسانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اگر زرعی شعبے کو سہارا نہ دیا گیا تو غذائی قلت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور معاشی بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کی برادری بھی سمجھتی ہے کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے اس کی بحالی اور ترقی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سیلاب نے غریب عوام کو جیتے جی مار دیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو غریب عوام کی جان و مال کی کوئی احساس نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زرعی ایمرجنسی کے لیے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔