یہی طرز حکمرانی رہا تو قوم سڑکوں پر ہوگی،شاہد خاقان
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ شوگر ملزمالکان کی جیبوں میں یومیہ 100ارب جارہا ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں،مہنگائی کا جن بے قابو ہے ، چینی اور آٹا مارکیٹوں سے غائب ہے۔انہوں نے مری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جھیکا گلی 150سال پرانا بازار تھا لیکن حکومت نے نہیں بتایا کہ بازار کو کیوں گرایا گیا؟حکومت نے لوگوں کے روزگار ختم کردیے اور پیسے بھی نہیں دیے۔
لوئر ٹوپہ میں عوامی اجتماع پر انتظامیہ نے لوگوں پر دہشتگردی کا پرچہ دے دیا۔ مری کے 3 رہنماو ¿ں کو فورتھ شیڈول میں کس قانون کے تحت ڈالا گیا؟حکمرانوں کا یہی طرز حکمرانی رہا تو قوم سڑکوں پر ہوگی۔ انتظامیہ اگر ہماری خودمختاری پر حملہ کرے گی تو حالات مختلف بنا دیں گے۔ گھرگرانے کا مقصد بتائے بغیر لوگوں کے روزگار اور گھر نہیں گرنے دیں گے۔
مہنگائی کا جن بے قابو ہے ، چینی اور آٹا مارکیٹوں سے غائب ہے، شوگر ملزمالکان کی جیبوں میں یومیہ 100ارب جارہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ وقت کی ضرورت تھی، پاکستان نے پہلے بھی حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔