بگرام ائیر بیس بارے ٹرمپ کے بیان پر افغانستان کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
مشیر امور خارجہ ذاکر جلالی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام ملک افغانستان کی عبوری حکومت کے مشیر امور خارجہ ذاکر جلالی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔ ذاکر جلالی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں کہا کہ بگرام بیس کی واپسی کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات کو ایک معاہدے یا کاروبار کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کبھی بھی افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے، اور یہ معاملہ دوحہ مذاکرات میں بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا۔ جلالی نے ایکس (ٹوئٹر) پر بیان میں کہا ہے کہ اقتصادی شعبوں میں امریکہ کے ساتھ تعامل کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، اور دونوں ممالک باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اپنے تعلقات استوار کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلے بھی کئی بار بگرام اڈے کو دوبارہ حاصل کرنے کی اپنی کوششوں پر زور دیا ہے اور اسے چین پر نظر رکھنے، ایک اینٹی ٹیرورزم مرکز قائم کرنے اور اہم معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنے جیسے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ سی این این کے مطابق بگرام اڈے کو واپس لینے کے بارے میں بات چیت مارچ سے جاری ہے، لیکن ٹرمپ کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے افغانستان میں امریکی فوجوں کی موجودگی کی ضرورت ہے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں۔ امریکہ کابل کی حکومت سے اپنے شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس نے طالبان کے بعض عہدیداروں کے علاقائی اجلاسوں میں سفر کو بھی محدود کر دیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی اسٹریٹجک رسائی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوششوں کو ہمیشہ طالبان کی مخالفت کا سامنا رہا ہے، اور افغانستان کی موجودہ حکومت نے کئی بار کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغانستان میں میں امریکہ ٹرمپ کے دیا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم