1898 میں فیصل آباد کو لائل پور کے نام سے منڈی بنایا گیا تھا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(کامرس ڈیسک) فیصل آبادچیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدرریحان نسیم بھراڑہ نے کہا کہ فیصل آباد چیمبرآف کامرس ملک کا تیسرا بڑا چیمبر ہے جس کے9 ہزارسے زائد ممبران ملکی معیشت کے 118شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ1898 میں اس علاقے کو کنٹرول کرنے کیلئے فیصل آباد کو لائل پور کے نام سے منڈی ٹاؤن کے طور پر قائم کیا گیاجس کا نقشہ برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک کی طرز پر ترتیب دیا گیالیکن یہ شہر اب ترقی کرتے کرتے ملک کے صنعتی، تجارتی اور کاروباری مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جبکہ کپاس کے علاقوں کے نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں ٹیکسٹائل کے شعبے نے تیزی سے ترقی کی اور آج اس کی نمایاں برآمدات میں ٹیکسٹائل کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ چیمبر کا کام بزنس ایڈووکیسی ہے اور یہ اپنے ممبرز کے مسائل کے حل کیلئے حکومت اور ممبران کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں ملک کی سب سے بڑی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم ہے جہاں ہر شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل ا باد
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔