مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئرمین عرفان صدیقی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض پارلیمانی ارکان اور عدلیہ کے چند ججز بیک وقت استعفے دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔

قائمہ کمیٹیاں ،پارلیمنٹ کی روح ہیں۔ پی ٹی آئی اگر قومی اسمبلی اورسینیٹ میں موجود ہے تو بہتر ہوکہ وہ سٹینڈنگ کمیٹیوں میں بھی موجود رہے اور اپنا جمہوری کردار ادا کرے ۔لیکن حالات کی رفتار یہ بتا رہی ہے کہ کچھ ہی عرصے میں مایوسی کی جھنجھلاہٹ میں پی ٹی آئی، پارلیمنٹ سے اور کچھ جج…

— Senator Irfan Siddiqui (@IrfanUHSiddiqui) September 19, 2025

انگریزی اخبار میں شائع عاصم یاسین کی رپورٹ کے مطابق عرفان صدیقی نے خبردار کیا کہ ایسا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا اور اس میں شامل عناصر کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سوشل میڈیا پر بیان

سینیٹر صدیقی نے کہا کہ حالیہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ مایوسی اور فرسٹریشن کے باعث پی ٹی آئی ارکانِ پارلیمنٹ اور بعض ججز جلد ہی مشترکہ استعفے دیں گے تاکہ اپنے مفادات کو آگے بڑھا سکیں۔

قائمہ کمیٹیوں کا کردار

انہوں نے پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو پارلیمان کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور زور دیا کہ پی ٹی آئی، جو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں نمائندگی رکھتی ہے، کو ان کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنی جمہوری ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں:سینیٹر عرفان صدیقی کے نام پر سیاسی رہنماؤں سے لاکھوں روپے ہتھیانے کا واقعہ

بحران پیدا کرنے کی کوشش

عرفان صدیقی کے مطابق اس منصوبے کا مقصد پاکستان کو بڑے بحران کی طرف دھکیلنا ہے، لیکن ان کے بقول یہ منصوبہ ناکامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استعفی بحران پی ٹی آئی ججز سینیٹر عرفان صدیقی عدلیہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استعفی پی ٹی ا ئی سینیٹر عرفان صدیقی عدلیہ عرفان صدیقی پی ٹی آئی

پڑھیں:

بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ

ابو ظبی: متحدہ عرب امارات نے استعمال شدہ کپڑوں اور ٹیکسٹائل کے بڑھتے ہوئے فضلے کو کم کرنے کیلئے ’نسیج‘ کے نام سے قومی منصوبہ شروع کر دیا۔حکام کے مطابق عرب امارات میں ہر سال تقریباً 2 لاکھ 20ہزار ٹن ٹیکسٹائل فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس فضلے کو کم کرنے کیلئے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر ’نسیج‘ کے نام سے قومی منصوبہ شروع کردیا گیا ہے۔نسیج منصوبے کے تحت پرانے کپڑوں کو دوبارہ استعمال، ری سائیکل اور قابلِ استعمال وسائل میں تبدیل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان