حکومت کا اہم قدم، پاکستان میں انٹر نیٹ اسپیڈ تیز ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پاکستان میں آئندہ 12 سے 18ماہ کے دوران انٹر نیٹ کی رفتار تیز ہونے کا امکان ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران پاکستان کو 3 نئے سب میرین کیبلز کے ذریعے عالمی نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ تینوں کیبلز کے معاہدے پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔وزارتی حکام کے مطابق نئے سب میرین کیبلز پاکستان کو براہِ راست یورپ سے جوڑیں گی جس سے موجودہ محدود راستوں پر انحصار کم ہو گا اور ملک کا انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر مضبوط ہوگا، اس اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی کنیکٹیویٹی بہتر ہوگی بلکہ آن لائن خدمات میں رفتار اور معیار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کے سیکرٹری زرار ہاشم خان نے کہا کہ ان منصوبوں سے بینڈوڈتھ کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا اور صارفین کے لیے ایک مستحکم اور قابل اعتماد انٹرنیٹ سروس کو یقینی بنائیں گے۔کمیٹی کے رکن صادق میمن نے حالیہ انٹرنیٹ مسائل پر سوال اٹھایا جس پر وزارت آئی ٹی نے یقین دہانی کرائی کہ نئے سب میرین کیبلز کی آمد سے طویل مدتی کنیکٹیویٹی کے مسائل حل ہوجائیں گے اور آن لائن خدمات میں بہتری آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔