طالبان حکومت نے جامعات میں 680 کتابوں پر پابندی عائد کردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کابل(انٹرنیشنل ڈیسک) افغانستان میں انٹرنیٹ سروس معطلی کے بعد اب طالبان حکومت نے جامعات میں 680 کتابوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کتابیں شرعی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان میں تقریباً 140 ایسی کتابیں بھی شامل ہیں جو خواتین مصنفات نے تحریرکی ہیں، طالبان حکام کے مطابق یہ کتابیں ان کے شرعی اصولوں اور پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
جن کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سائنسی مضامین اور تحقیق سے متعلقہ کتب بھی شامل ہیں۔
مثال کے طورپر”سیفٹی ان دی کیمیکل لیبارٹری” جیسی نصابی کتاب کو بھی غیرموزوں قرار دیا گیا ہے۔
اس پابندی پر طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے تمام مواد کو جامعات سے ہٹا رہے ہیں جو ان کی وضع کردہ تعلیمی پالیسی کے خلاف جارہے ہوں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان حکومت مختلف افغان صوبوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کر چکی ہے جبکہ خواتین کے بیوٹی پارلرزکو بھی بند کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔
ناقدین کے مطابق یہ فیصلے افغانستان میں خواتین اور طلبہ کے تعلیمی و سماجی مواقع کو مزید محدود کررہے ہیں۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پر پابندی عائد طالبان حکومت
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔