روس اور بیلاروس کی ٹیموں کی 2026 سرمائی اولمپکس میں شرکت پر پابندی، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے روس اور بیلاروس کی قومی ٹیموں کو 2026 کے سرمائی اولمپکس، جو اٹلی کے شہر میلان اور کورٹینا ڈیمپیٹزو میں منعقد ہوں گے، میں شرکت کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
آئی او سی کی جانب سے یہ فیصلہ یوکرین جنگ کے بعد لگائی گئی پابندیوں کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے بعض کھلاڑی جانچ پڑتال کے بعد صرف انفرادی طور پر غیر جانبدار پرچم تلے مقابلے میں حصہ لے سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی فٹبال ٹیم جاپان پہنچا دینے کا معاملہ، ڈی پورٹ ہونے والے 22 ’کھلاڑی‘ گرفتار
اس سے قبل 2022 میں روس اور بیلاروس کو اولمپکس سمیت دیگر بڑے کھیلوں کے مقابلوں سے خارج کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں کچھ رعایت دی گئی جس کے تحت پیرس اولمپکس 2024 میں محدود کھلاڑیوں کو غیر جانبدار پرچم تلے کھیلنے کی اجازت دی گئی لیکن ٹیموں کی شمولیت پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی۔
BREAKING NEWS
Russia is not allowed into the Olympic ice hockey community at the Winter Olympic Games next year.
This is stated by Luc Tardif, chairman of the International Ice Hockey Federation.
The Russian Olympic Committee has received the message, he says to SVT Sport. pic.twitter.com/7monzdZFZC
— Base of Ukrainian sports ???????? | Olympics (@Ukrsportbase) May 25, 2025
تنظیم کی نئی صدر کرسٹی کووینٹری نے کہا کہ ایگزیکٹو بورڈ وہی طریقہ کار اپنائے گا جو پیرس اولمپکس میں اختیار کیا گیا تھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ مسلح تنازعات کی بنیاد پر قوموں پر مکمل پابندی لگانے کی حامی نہیں ہیں۔
مقررہ پالیسی کے تحت وہ کھلاڑی مقابلے میں حصہ نہیں لے سکیں گے جو جنگ کی کھل کر حمایت کرتے ہیں یا روسی و بیلاروسی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ معاہدے پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مغرب کی یوکرین اور غزہ پر دہری پالیسی عالمی ساکھ کے لیے خطرہ ہے: ہسپانوی وزیراعظم
دوسری جانب روسی حکام نے ان پابندیوں کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک پر کھیلوں کو سیاست زدہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ماسکو نے آئی او سی کے اقدامات کو ’اولمپک چارٹر کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے جس کے مطابق کھیلوں کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
اس کے باوجود روسی کھلاڑی عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سنگاپور میں منعقدہ 2025 ورلڈ ایکویٹک چیمپئن شپ میں روسی تیراکوں نے 18 تمغے جیتے، جن میں چھ سونے کے بھی شامل تھے اور غیر جانبدار حیثیت میں حصہ لیتے ہوئے ٹیم نے مجموعی طور پر چوتھی پوزیشن حاصل کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اولمپک پابندی روس سرمائی کھیل کھیل یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اولمپک پابندی سرمائی کھیل کھیل یوکرین
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔