انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے کھیلوں میں سیاست کی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔

آئی او سی ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کھیل قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ ہیں اور یہی اولمپکس کا بنیادی اصول ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کھیلوں کی دنیا میں گھسیٹنا، ایونٹس کے بائیکاٹ، کھلاڑیوں کے سفر میں رکاوٹ اور مقابلوں کی منسوخی کھیلوں کی روح کے منافی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ورکنگ گروپ کھیلوں کی سیاسی غیرجانبداری کو یقینی بنائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کھلاڑیوں کے حق پر کسی قسم کا سمجھوتا نہ ہو۔

مزید پڑھیں: اولمپکس 2028: کرکٹ کے مقابلوں میں پاکستان کی شمولیت کیسے ممکن ہے؟

آئی او سی نے کہا کہ کھلاڑی امن کے سفیر ہیں اور کھیل دنیا کو جوڑنے کی طاقت رکھتے ہیں، اس لیے کھیلوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے حالیہ برسوں میں بارہا پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار، مختلف کھیلوں میں بائیکاٹ اور ایشیا کپ جیسے ایونٹس میں غیر شائستہ رویہ اختیار کر کے اولمپکس کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس رویے کے باعث ماہرین کے مطابق بھارت کی 2036 اولمپکس کی میزبانی کی بولی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

2036 اولمپکس آئی او سی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اولمپک کمیٹی بھارت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 2036 اولمپکس آئی او سی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اولمپک کمیٹی بھارت اولمپک کمیٹی آئی او سی

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی