کھیلوں میں سیاست گھسیٹنے والے بھارت کو دھچکا، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ورکنگ گروپ کا اعلان کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز

نئی دہلی (سب نیوز )انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی(آئی او سی) نے کھیلوں میں سیاست کے خلاف ورکنگ گروپ بنانے کا اعلان کر دیا۔ آئی او سی نے سیاسی معاملات اور ملکوں کے درمیان کشیدگی کی بنیاد پر اسپورٹس ایونٹس کے بائیکاٹ، منسوخی اور کھلاڑیوں کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ حال ہی میں بھارت نے کھیلوں کے سیاسی بنیادوں پر بائیکاٹ اور کھلاڑیوں کے ویزا منسوخی کے اقدامات کیے ہیں۔

آئی او سی ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے بعد اعلامیے میں کہا گیا کہ کھیل قوموں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہی اولمپک کا بنیادی اصول ہے۔ ملکوں کی کشیدگی مذاکرات سے دور کی جانی چاہیے۔ کھیل ہی دنیا کو امن اور اتحاد کے رشتے میں جوڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کھیلوں کو سیاسی چپقلش کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کمیٹی نے کھیلوں میں سیاست کی مداخلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی کے باعث ایونٹس کے بائیکاٹ، کھلاڑیوں کے سفر میں رکاوٹ اور مقابلوں کی منسوخی،کھلاڑیوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ آئی او سی کا ورکنگ گروپ کھیلوں کی سیاسی غیر جانبداری کو یقینی بنائے گا۔ کھلاڑی امن کے سفیر ہیں اور اولمپکس کا بنیادی اصول کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا ہے۔یاد رہے کہ 2036 اولمپکس کی میزبانی کا خواہشمند بھارت ، بارہا اولمپک کے امن کے اصول کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ کبھی پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے سے انکار، بلائنڈ کرکٹ، اسکریبل، اسنوکر اور اسکواش ٹیموں کو ویزے نہ دینا اس کی کھلی مثال ہے۔

اس کے علاوہ کرکٹ اور فٹبال ٹیموں کو آخری لمحات تک منتظر رکھنا بھی بھارت کا رویہ رہا ہے۔حال ہی میں بھارتی کرکٹرز نے ایشیا کپ میں پاکستانی پلیئرز سے ہاتھ نہ ملا کر دنیا بھر میں کھیلوں کی روح کی نفی کی۔اسپورٹس ماہرین کے مطابق کھیلوں کو سیاست کا شکار بنانے سے بھارت کی اولمپک بڈ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔عالمی سطح پر کھیلوں کو سیاست سے بچانے کی آوازیں تیز ہورہی ہیں اور اب آئی او سی کا ورکنگ گروپ اس پیغام کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ ایسے میں بھارت کو اپنی سیاست اور کھیلوں کے بیچ فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ عالمی اسٹیج پر سیاست کے لیے کھیلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اعجاز اسحاق کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، خواجہ آصف وکلا احتجاج کے دوران ہاتھا پائی کا معاملہ،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار سید واجد گیلانی کی مدعیت میں مقدمہ درج افغانوں نے تاریخ میں اپنی سرزمین پر غیرملکی فوج کی موجودگی کو کبھی قبول نہیں کیا: افغان حکام پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کھیلوں میں سیاست ورکنگ گروپ

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا