data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی:۔ دہلی ہائی کورٹ کے دو ٹربیونلز نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں عوامی ایکشن کمیٹی اور سینئر حریت رہنما مسرور عباس انصاری کی زیر قیادت جموں و کشمیر اتحاد المسلمین پر پابندی کے بی جے پی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین آزادی پسند تنظیمیں ہیں جو کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہیں اوریہ تنظیمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے لئے حق خودارادیت کا مطالبہ کررہی ہیں۔

جسٹس سچن دتا کی زیر صدارت دونوں ٹربیونلز نے کہاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون ”یو اے پی اے” کے تحت دونوں تنظیموں کو غیر قانونی قراردینے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔بھارتی وزارت داخلہ نے11مارچ کو دونوں تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر الزام لگایاتھا کہ یہ بھارت کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے رہنما اور ارکان مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کی حمایت سمیت غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے فنڈز جمع کرنے میں ملوث ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جموں و کشمیر اتحاد المسلمین عوامی ایکشن کمیٹی

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے