اس تاریخی معاہدہ پر اظہار تشکر کے دن پر اپنے خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کا رشتہ محض دو ملکوں کی سفارتی تاریخ نہیں یہ دو دلوں کی دھڑکن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی تعاون کا تاریخی معاہدہ ایک گیم چینجر معاہدہ ہے۔ اس تاریخی معاہدہ پر اظہار تشکر کے دن پر اپنے خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کا رشتہ محض دو ملکوں کی سفارتی تاریخ نہیں یہ دو دلوں کی دھڑکن ہے، یہ ایک ایسی صدا ہے جو حرم کے میناروں سے بلند ہوتی ہے اور مینار پاکستان کی فضاؤں میں گونجتی ہے، یہ خطے میں ایک گیم چینجر منصوبہ ہے جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی دور اندیشی کا ثبوت ہے جس نے بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ پر کاری ضرب لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت مسلح افواج پاکستان کو عطا کی ہے کہ پاک فوج حرمین شریفین کی حفاظت کی قومی اور دینی ذمہ داری کے فرائض انجام دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے معرکہ حق میں تاریخی فتح حاصل کی جس میں پاکستان کی بری، بحری اور فضائی فوج نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، یہی وجہ ہے کہ دنیا پاک فوج کی پروفیشنل صلاحیتوں کو تسلیم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی میدان میں بھی کامیابیوں حاصل کیں اور یہ تاریخی معاہدہ ام الفتح ہے جس سے خطہ امن و سلامتی کا مرکز بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی معاہدہ کی خوشی میں آج پورے آزاد کشمیر میں یوم تشکر منایا گیا اور دونوں برادر ملکوں کی ترقی اور سلامتی کیلیے دعائیں کی گئیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ تاریخی معاہدہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار