کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اذانیں تو دی جانی تھیں اور ہم سب تیار بھی تھے۔ لیکن گزشتہ رات تک ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ ایک عالمِ دین نے بتایا کہ’’مشن نور‘‘ایک متنازعہ نام ہے۔ میں نے یہ بات فوراً پولیٹیکل کمیٹی میں شیئر کی جہاں صاحبزادہ حامد رضا صاحب اور دیگر ساتھیوں نے بھی اس کی تائید کی۔

حلیم عادل شیخ کا ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ صاحبزادہ صاحب نے بھی علماء کرام سے تصدیق کی اور ہم سب نے معلوم کیا۔ سب نے یہی کہا کہ اس کی کڑیاں قادیانیت سے ملتی ہیں۔ چونکہ اذان پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ صرف نام متنازعہ تھا، اس لیے ضروری تھا کہ نام تبدیل کیا جائے۔ وقت بہت کم تھا، اس لیے پارٹی کے آفیشل اعلامیے کا انتظار کیے بغیر میں نے فوری طور پر اس نام کو رکوا دیا۔ یہ میرا فرض تھا کہ کسی بھی متنازعہ چیز کو آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ الحمدللہ آج صبح ہم نے سینیٹر نوراُلحق قادری صاحب سے بات کی، پوری پارٹی لیڈرشپ سے مشاورت ہوئی اور سب نے اتفاق کیا کہ اس کا نام بدل کر “حکمِ اذان” رکھا جائے۔ صرف ایک دن نہیں بلکہ 20 سے 24 ستمبر تک، چار دن متواتر ہر جگہ بھرپور انداز میں اذانیں دی جائیں گی، کیونکہ پاکستان پر بہت بڑی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ معاملہ بہتر انداز میں حل ہو گیا۔ نوراُلحق قادری صاحب، جو کہ عمران خان صاحب کے فوکل پرسن برائے مذہبی امور ہیں، نے اس حوالے سے باقاعدہ بیان جاری کر دیا ہے جو پارٹی کا آفیشل مؤقف ہے۔ اس سے پہلے پارٹی کی طرف سے کوئی اعلامیہ نہیں تھا، لیکن اب ہے کہ اذانیں “حکمِ اذان” کے نام سے دی جائیں گی۔ جہاں تک میری ذات پر پروپیگنڈے کا تعلق ہے، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے اذان پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ، میرا اعتراض صرف نام پر تھا، اور الحمدللہ یہ درست انداز میں حل ہو گیا ہے۔ جو میرا موقف صحیح سمجھ رہے تھی اُنکا شُکریہ جو غلط سمجھ رہے تھے اُمید ہے اُنکو اب اندازہ ہوگیا ہوگا۔  

شادی کے نام پر کم عمر لڑکی کو گھر سے بھگانے اور ایک ماہ تک زیادتی کرنے والا مشہور ٹک ٹاکر گرفتار

اذانیں تو دی جانی تھیں اور ہم سب تیار بھی تھے۔ لیکن گزشتہ رات تک ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ ایک عالمِ دین نے بتایا کہ “مشن نور” ایک متنازعہ نام ہے۔ میں نے یہ بات فوراً پولیٹیکل کمیٹی میں شیئر کی جہاں صاحبزادہ حامد رضا صاحب اور دیگر ساتھیوں نے بھی اس کی تائید کی۔ صاحبزادہ صاحب… pic.

twitter.com/QJMmsv76nC

— Haleem Adil Sheikh (@HaleemAdil) September 20, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نہیں تھا نے بھی

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف