فخر زمان کے آؤٹ ہونے کے فیصلے پر تنازع، سابق کرکٹرز اور شائقین برہم
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایشیا کپ ٹی 20 کے ایک اہم مقابلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری ٹاکرے میں ایک متنازع فیصلے نے نئی بحث چھیڑ دی۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹر فخر زمان کو 15 رنز پر آؤٹ قرار دیا گیا، لیکن ری پلے مناظر نے شائقین، کرکٹرز اور کمنٹیٹرز کو حیران کر دیا۔
پاکستانی اننگز کے دوران جب اسکور 21 رنز پر پہنچا، تو فخر زمان ہاردک پانڈیا کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ قرار دیے گئے۔ فیلڈ امپائر نے فیصلہ تھرڈ امپائر کو ریویو کے لیے بھیجا۔ ری پلے میں واضح طور پر دکھائی دیا کہ گیند زمین سے ٹکرانے کے بعد کیپر کے ہاتھوں میں گئی، لیکن اس کے باوجود تھرڈ امپائر نے آؤٹ قرار دے دیا۔
فخر زمان نے خود بھی فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا، جبکہ میچ میں موجود کمنٹیٹرز نے اس پر بار بار تبصرہ کرتے ہوئے فیصلے کو “مشکوک” قرار دیا۔
سابق کھلاڑیوں کا ردعمل
پاکستان کے سابق کرکٹرز نے بھی فخر کے حق میں آواز بلند کی
محمد عامر نے پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا فخر زمان آؤٹ نہیں تھے، یہ صاف نظر آ رہا تھا۔”
محمد حفیظ نے اپنی پوسٹ میں زور دیا پاکستان کو ٹیم انڈیا کے ساتھ ساتھ اب آن فیلڈ امپائرز سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ بہترین کارکردگی کے بغیر جیت ممکن نہیں۔”
فواد عالم نے جذباتی انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم صرف 11 کھلاڑیوں کے خلاف نہیں، بلکہ 14 کے خلاف کھیل رہے ہیں۔ فخر زمان واضح طور پر ناٹ آؤٹ تھے۔”
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
پاکستانی شائقین نے اس فیصلے کو کرکٹ کی روح کے منافی قرار دیا اور امپائرنگ کے معیار پر سوالات اٹھائے۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ “ٹیکنالوجی کی موجودگی کے باوجود اگر واضح چیزیں نظرانداز ہوں تو انصاف کیسے ممکن ہے؟”
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین