پولیس امن و امان کی بحالی کیلئے بہتر اقدامات کررہی ہے،حسن سردار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250922-11-16
خیرپور (جسارت نیوز ) ایس ایس پی خیرپور حسن سردار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کی جانب سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پولیس اہلکار جو جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ رابطوں میں پائے گئے، ان کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ کئی اہلکاروں کو ڈیوٹی سے برطرف کیا گیا ہے جبکہ بعض افسران کو سسپنڈ کرکے ضلع بدر کیا گیا ہے۔ایس ایس پی حسن سردار نے بتایا کہ ان کے چارج سنبھالنے سے قبل ضلع خیرپور میں جرائم کی وارداتیں بہت زیادہ ہو چکی تھیں، تاہم پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں شروع کی گئیں۔ اب تک پانچ سے زائد خطرناک ڈاکو پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو سو سے زائد جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں خصوصاً تحصیل کنگری، گمبٹ، نارا، سوبھوڈیرو، کوٹڈیجی اور ٹھری میرواہ میں قومی شاہراہوں پر پولیس پکٹ اور چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔ ان چیک پوسٹوں پر آنے جانے والے افراد اور مسافر گاڑیوں کی باقاعدہ تلاشی لی جاتی ہے تاکہ کوئی جرائم پیشہ شخص شہر میں داخل یا فرار نہ ہو سکے۔ایس ایس پی خیرپور نے بتایا کہ منشیات فروشوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائیاں کسی دباؤ کے بغیر جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔