لاہور پولیس کی ہوائی فائرنگ اور ناجائز اسلحہ کے خلاف سخت کارروائیاں، سینکڑوں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
لاہور میں رواں سال ہوائی فائرنگ میں ملوث 686 ملزمان گرفتار جبکہ 553 مقدمات درج کیے گئے۔
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق پولیس نے ناجائز اسلحہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران 6640 مقدمات کا اندراج کیا اور ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا جن میں 42 کلاشنکوف، 312 رائفلیں، 256 گنیں، 5945 ریوالور اور 29 ہزار سے زائد گولیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کی کارروائی: 380 ملزمان گرفتار، بڑی مقدار میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ برآمد
سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کا کہنا ہے کہ محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے قانون شکن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور ہوائی فائرنگ یا اسلحہ کی نمائش سے خوف و ہراس پھیلانے والوں کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: راولپنڈی میں جرگہ کے حکم پر لڑکی کے قتل کی تفتیش میں اہم پیشرفت، کپڑے اور اسلحہ برآمد
سی سی پی او لاہور نے ہدایت دی کہ سوشل میڈیا پر اسلحہ اور ہوائی فائرنگ کی تشہیر کرنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے، جبکہ شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کے احترام کو اپنا شعار بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلحہ لاہور پولیس ہوائی فائرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور پولیس ہوائی فائرنگ ہوائی فائرنگ کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔