ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے کراچی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت محمد اکبر کے نام سے ہوئی ہے جسے سہراب گوٹھ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران ملزم کو غیر ملکی کرنسی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

ملزم کے قبضے سے مجموعی طور پر 70 لاکھ روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی جن میں 13 ہزار امریکی ڈالر، 8 ہزار سعودی ریال، 1556 یو اے ای درہم، 7 ہزار انڈونیشین روپیہ، ایک ہزار یمنی ریال، 318 عمانی ریال اور 305 چائنیز یوآن شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی: ایف آئی اے کا حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے خلاف کریک ڈاؤن، 63 ملزمان گرفتار

ترجمان کے مطابق برآمد شدہ کرنسی میں 1,74,610 افغانی، یورو، عراقی دینار، ترک لیرا اور 40 لاکھ ایرانی ریال بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملزم سے 15 لاکھ پاکستانی روپے اور 5 موبائل فونز بھی قبضے میں لیے گئے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہا تھا اور برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کرسکا۔ ملزم سے مزید ریکارڈ بھی برآمد ہوا ہے جبکہ تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف آئی اے کراچی کرنسی ایکسچینج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے کراچی کرنسی ایکسچینج کرنسی ایکسچینج ایف آئی اے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان