ایف آئی اے کراچی کی بڑی کارروائی، غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے کراچی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت محمد اکبر کے نام سے ہوئی ہے جسے سہراب گوٹھ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران ملزم کو غیر ملکی کرنسی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
ملزم کے قبضے سے مجموعی طور پر 70 لاکھ روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی جن میں 13 ہزار امریکی ڈالر، 8 ہزار سعودی ریال، 1556 یو اے ای درہم، 7 ہزار انڈونیشین روپیہ، ایک ہزار یمنی ریال، 318 عمانی ریال اور 305 چائنیز یوآن شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: ایف آئی اے کا حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے خلاف کریک ڈاؤن، 63 ملزمان گرفتار
ترجمان کے مطابق برآمد شدہ کرنسی میں 1,74,610 افغانی، یورو، عراقی دینار، ترک لیرا اور 40 لاکھ ایرانی ریال بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملزم سے 15 لاکھ پاکستانی روپے اور 5 موبائل فونز بھی قبضے میں لیے گئے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہا تھا اور برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کرسکا۔ ملزم سے مزید ریکارڈ بھی برآمد ہوا ہے جبکہ تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف آئی اے کراچی کرنسی ایکسچینج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے کراچی کرنسی ایکسچینج کرنسی ایکسچینج ایف آئی اے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔