کوہستان سکینڈل میں پیشرفت؛ مرکزی ملزم نے پلی بارگین کی درخواست دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2025ء ) کوہستان میگا سکینڈل میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سی اینڈ ڈبلیو داسو کوہستان کے ہیڈ کلرک قیصر اقبال نے پلی بارگین کے لیے احتساب عدالت میں درخواست جمع کرا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم دل، پھیپھڑوں اور کینسر کے عارضے میں مبتلا ہے اور اس وقت ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج ہے، ملزم نے شدید بیماری کے باعث پلی بارگین کی درخواست منظور کرنے کی استدعا کی ہے، ملزم کی جانب سے اپنے بینک اکاؤنٹس اور اربوں روپے کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزم قیصر اقبال نے واجب الادا تمام رقم ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے 10 ارب روپے سے زائد کے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، ملزم نے اپنے اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کی مکمل جانچ پڑتال کی بھی درخواست کی ہے، قیصر اقبال کی پلی بارگین کی درخواست ایک دو روز میں منظور کیے جانے کا امکان ہے۔(جاری ہے)
قبل ازیں کوہستان میں اربوں روپے کی کرپشن کے بڑے سکینڈل میں نیب کی جانب سے مرکزی ملزم محمد ایوب کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی جاچکی ہے، پلی بارگین کے تحت ملزم ایک ارب 45 کروڑ روپے کی رقم واپس کرنے پر رضامند ہوا ، جس کی منظوری چیئرمین نیب کی جانب سے دے دی گئی ، محمد ایوب پر مجموعی طور پر 3 ارب 45 کروڑ روپے کی بینک منتقلیوں کا الزام ہے، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے اسلام آباد، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں خریدیں جنہیں نیب نے منجمد کر دیا اور جلد نیلامی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پلی بارگین کی درخواست
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔