کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
کراچی کے میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، گزشتہ روز 3 خواجہ سراؤں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا جن کی لاشیں میمن گوٹھ میں سپرہائی وے سے ملی تھیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت ان کے گرو ظفر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
مدعی مقدمہ نے موقف اپنایا ہے کہ ہم سب خواجہ سرا ایک ہی علاقے میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر تھے، ہمیں بذریعہ واٹس ایپ معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھی کو فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا ہے۔
مدعی نے موقف اپنایا ہے کہ مقتولین میں ایلکس، جیئل اور اسما شامل ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہات پر قتل کیا ہے۔
پولیس کے مطابق تینوں خواجہ سراؤں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے، شواہد کی مدد سے قاتلوں کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے قتل کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہیں۔
واضح رہے کہ 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں گزشتہ روز میمن گوٹھ کے علاقے میں ناگوری سوسائٹی کے قریب سپر ہائی وے سے ملی تھیں۔
ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دو خواجہ سراؤں کو سینے جبکہ ایک کو سر پر ایک ایک گولی ماری گئی تھی، جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم کے دو خول ملے ہیں، کرائم سین پر کوئی کیمرا نہیں لگا ہوا، خواجہ سرائوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔
واقعے کے بعد لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں خواجہ سراؤں نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے احتجاج بھی کیا تھا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کی دھمکی دی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خواجہ سراؤں کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی تھی جبکہ ملزمان کی فوری گرفتار کا حکم دیا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے نادرا کے ڈیٹا کی مدد سے 2 مقتولین کی شناخت ایلکس ریاست اور جیئل کے ناموں سے کی تھی، مقتولین نے شناختی کارڈ میں اپنی جنس مرد لکھوائی ہوئی تھی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواجہ سراؤں کے قتل کا میمن گوٹھ گیا ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔