Al Qamar Online:
2026-07-24@04:20:46 GMT

سی پیک فیز ٹو: پاک چین اقتصادی تعاون میں نئے دور کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جو کاروبار سے کاروبار کے اشتراک کا نیا باب ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر کے مطابق سی پیک 2.0 کی ترجیحات میں زرعی انقلاب، جدید ٹیکنالوجی، سبز توانائی اور خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں۔

چین روانگی سے قبل جاری بیان میں احسن اقبال نے بتایا کہ جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کا 14واں اجلاس 26 ستمبر کو بیجنگ میں منعقد ہوگا، جس میں سی پیک فیز ٹو کے مستقبل کے لائحہ عمل کو عملی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا بااعتماد دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، اور اب دونوں ممالک باہمی خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کے دوران 2025-29 کا ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی معیشت نئی منزلوں کی جانب گامزن ہے اور معاشی اشاریے نمایاں بہتری دکھا رہے ہیں۔

احسن اقبال کے مطابق سی پیک کے پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی گئی اور چین کی 33 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بڑے توانائی اور انفرااسٹرکچر منصوبے مکمل کیے گئے۔ ان میں ساہیوال، پورٹ قاسم اور حبکو کول پاور پلانٹس، قائداعظم سولر پارک، تھر کول منصوبہ اور شاہراہوں کا جال شامل ہے جس سے ملک کے طول و عرض کو جوڑ دیا گیا۔ گوادر پورٹ کی اپ گریڈیشن، فری زون، ایئرپورٹ، اسپتال اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کو بلوچستان کی ترقی کا محور قرار دیا گیا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2018 کے بعد سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں سی پیک سست روی کا شکار ہوا، تاہم اب دوسرے مرحلے کو کاروباری اشتراک اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کے ساتھ شروع کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کو وزیراعظم کے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے پانچ نکاتی فریم ورک سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس میں نمو، معاش، جدت، سبز معیشت اور علاقائی ترقی کی راہیں شامل ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ چین ہر سال دو ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے لیکن پاکستان کی برآمدات محض تین ارب ڈالر تک محدود ہیں، اس لیے سی پیک 2.

0 برآمدات پر مبنی معیشت کے قیام اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے اور حکومت اس کے جلد آغاز کے لیے پرعزم ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر انہوں نے نے کہا سی پیک

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا