data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکا نے برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور حال ہی میں پرتگال سمیت کئی مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات کو ’نمائشی اقدامات‘ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ اعلانات خطے میں حقیقی امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی اولین ترجیحات میں ’’سنجیدہ سفارت کاری‘‘ کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنا، اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا اور یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی شامل ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں دیرپا امن و ترقی صرف اس صورت ممکن ہے جب حماس کو اس عمل کا حصہ نہ بنایا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پرتگال نے بھی اسی مؤقف کو اپنایا۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں، جس سے فلسطین کے حق میں سفارتی حمایت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

اُدھر اسرائیل نے ان تمام فیصلوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ صہیونی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی اور اس کے برعکس مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کے منصوبے بدستور جاری رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا