غزہ پر قیامت: اسرائیلی فوج کے حملوں میں شدت( 91 فلسطینی شہید)
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
دغموش خاندان کے گھر پر فضائی حملے میں 11 افراد جاں بحق ،70 افراد غزہ سٹی میں مارے گئے
اسرائیل کی زمینی کارروائی اور بلند عمارتوں کو منہدم کرنے کی مہم تیز،6 لاکھ سے زائد شہری محصور
اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی اور دیگر علاقوں پر شدید حملے جاری رکھے، جن میں 91 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں سے 70 افراد صرف غزہ سٹی میں مارے گئے۔فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق، الصبرہ محلے میں دغموش خاندان کے گھر پر فضائی حملے میں 11 افراد جاں بحق ہوئے۔اسرائیل کی زمینی کارروائی اور بلند عمارتوں کو منہدم کرنے کی مہم تیز ہو گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 20 ٹاور بلاکس تباہ کیے گئے جبکہ اندازاً 3 لاکھ 50 ہزار لوگ غزہ سٹی چھوڑ چکے ہیں، تاہم اب بھی 6 لاکھ سے زائد شہری وہاں محصور ہیں۔حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی جانیں شدید خطرے میں ہیں کیونکہ اسرائیل کے بمباری اور پیش قدمی نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ وہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو۔تقریباً دو سال سے جاری جنگ میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، بیشتر ڈھانچے تباہ اور آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے کہا کہ حملوں میں ان کا بھائی اور بھابھی بھی جاں بحق ہوئے، جس نے اسپتال کے عملے کو بھی شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غزہ سٹی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔