کراچی میں ملیریا، ڈینگی اسپرے کیلئے صرف 18 ملازمین تعینات، وہ بھی 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
کراچی میں 3 کروڑ کی آبادی کے لیے ملیریا اور ڈینگی اسپرے کرنے والے صرف 18 ملازمین ہیں اور وہ بھی 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جب کہ ویکٹربون ڈیزیز کے ماتحت چلنے والے ڈینگی پروگرام میں 100 سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں 3 کروڑ کی آبادی کے لیے ملیریا اور ڈینگی اسپرے کرنے والے 18 ملازمین 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور 8 سال سے ان ملازمین کو مستقل بھی نہیں کیا گیا۔
3 سال قبل ویکٹر بون ڈیزیز کا ہیڈ آفس کراچی سے حیدرآباد منتقل کردیا گیا جس کی وجہ سے کراچی میں اسپرے مہم عملاً غیر فعال ہے، ڈینگی اسپرے کرنے والے 18 ملازمین کو کراچی کے 7 اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔
اس وقت کراچی کے ایک ضلع میں 2 سے 3 اسپرے کرنے والا عملہ تعینات ہے، یہ عملہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے ماتحت نہیں ہے، اسپرے کرنے والے ملازمین نے بتایا کہ کراچی میں گذشتہ کئی سالوں سے جراثیم کش ادویات کا اسپرے نہیں کیا جارہا لیکن سیاسی اثر رکھنے والے افسران اپنے گھروں میں باقاعدگی سے اسپرے کراتے ہیں۔
متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت اسپرے کرنے والے ماہرین گذشتہ 8 سال سے کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں جنہیں ایک ایک سال بعد تنخواہیں دی جاتی ہیں جن میں گریڈ 2 سے گریڈ 17 تک کے ملازمین شامل ہیں۔
ان ملازمین کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام بھی سیاسی مفادات کی بھنیٹ چڑا ہوا ہے جس کے نتیجے میں عوام کی زندگیاں مچھروں کے رحم وکرم پر ہیں۔
ان ملازمین نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ میں مون سون بارشوں کے بعد ستمبر سے ڈینگی اور ملیریا کے مچھروں کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے اور ستمبر سے دسمبر تک ڈینگی اور ملریا شدید حملہ آور ہوتا ہے اور ہر سال سیکٹروں قیمتی جانیں ڈینگی اور ملیریا سے ضائع ہورہی ہیں۔
ویکٹربون ڈیزیز کے ملازمین کا کہنا ہے کہ کراچی میں مچھروں کے خاتمے کی اسپرے مہم کے لیے ہر ضلع کو 12 لاکھ روپے سالانہ فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ چراثیم کش ادویات کا بجٹ الگ سے ہوتا ہے۔
ایکسپریس کو موصول ہونے والی بجٹ دستاویز کے مطابق 2024-25 میں ویکٹربون ڈیزیز کے ماتحت کام کرنے والے ڈینگی کنٹرول پروگرام کا بجٹ ڈھائی ملین روپے سے بڑھا کر 67.
رواں سال کے بجٹ میں مچھر مار اسپرے میں استعمال ہونے والی ادویات کی مد میں 14.5 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں اس کے باوجود کراچی میں اسپرے مہم شروع نہیں کی جاسکی۔
متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے ویکٹر بون ڈیزیز کو ہر سال مچھروں کے خاتمے کے لیے خطیر رقم فراہم کی جاتی ہے اس کے باوجود کراچی کے کسی بھی ضلع میں جراثیم کش ادویات کا اسپرے نہیں کیا جاتا۔
متاثرہ ملازمین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کراچی میں مچھروں کی وجہ سے ڈینگی، ملیریا کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن ویکٹر بون ڈیزیز کے حکام متاثرہ افراد کے درست اعدادوشمار جاری نہیں کرتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملازمین کا کہنا اسپرے کرنے والے ڈینگی اسپرے کراچی میں ملین روپے ڈیزیز کے کہ کراچی نہیں کی کے لیے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔