راولپنڈی میں ڈینگی پر قابو نہ پایا جا سکا، 24 گھنٹوں میں 20 نئے کیس رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
راولپنڈی:
دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں ڈینگی کے خطرناک وار کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 20 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں اب تک ڈینگی کے 436 مصدقہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، تاہم رواں سال خوش قسمتی سے کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔ اس وقت 42 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ڈینگی کی روک تھام کے لیے سرویلنس ٹیموں کی تعداد 1499 تک بڑھا دی گئی ہے جنہوں نے اب تک 50 لاکھ 94 ہزار 661 گھروں کی چیکنگ کی، جہاں گھروں میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد مقامات پر ڈینگی لاروا برآمد ہوا۔
اس کے علاوہ 13 لاکھ 49 ہزار 812 مقامات کی اسپاٹ چیکنگ کی گئی جن میں سے 18 ہزار 894 مثبت نکلے۔ اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 58 ہزار 941 سائٹس سے ڈینگی لاروا تلف کیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 4004 مقدمات درج کیے گئے، 1738 عمارتوں کو لاروا ملنے پر سربمہر کیا گیا جب کہ 3333 چالان کیے گئے۔ حکام کے مطابق ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں سے مجموعی طور پر 98 لاکھ 85 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ڈینگی مریضوں اور لاروا کی موجودگی زیادہ تر کوٹھا کلاں، کینٹ، خلیل سکھو، چک جلال دین، موہن پورہ، چری اور ڈھوک علی اکبر جیسے علاقوں میں سامنے آئی ہے، جہاں ٹیمیں انسداد ڈینگی مہم کو مزید تیز کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔