شہر ی کو کچلنے والے ڈمپر ڈرائیور کی 30 لاکھ روپے میں ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے گارڈن کے علاقے میں ڈمپر کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار ڈرائیور کی 30 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے گرفتار ڈرائیور نیاز اللہ کو عدالت میں پیش کیا، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ڈرائیور کی ضمانت منظور کر لی تاہم زرِ ضمانت جمع نہ ہونے پر ملزم کو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
وکیل صفائی نزیراللہ محسود ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی ضمانتی رقم کل عدالت میں جمع کرا دی جائے گی۔ ان کے مطابق واقعے کے فوراً بعد مشتعل شہریوں نے ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے وہ زخمی بھی ہوا۔
پولیس تفتیشی رپورٹ کے مطابق ڈمپر ڈرائیور نیاز اللہ نے گارڈن کے علاقے میں تیز رفتاری کے باعث شاہزیب نامی نوجوان کو کچل دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مقتول کے اہلِ خانہ کی جانب سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔