حکومت پاکستان پی اے آر سی کو ایک جدید اور فعال ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے، رانا تنویرحسین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2025ء)وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ حکومت پاکستان پی اے آر سی کو ایک جدید اور فعال ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے،زرعی تحقیق کو براہ راست کسانوں اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے ۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ایک وفد کے ساتھ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی اصلاحات اور تبدیلی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
وزیر نے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان پی اے آر سی کو ایک جدید اور فعال ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو زرعی شعبے کے نئے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے اور قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنائے۔(جاری ہے)
چینی وفد کی قیادت محترمہ یان یان، لیول-1 کنسلٹنٹ، ڈپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل کوآپریشن، وزارت زراعت و دیہی امور، چین اور محترمہ لانگ وانرونگ، لیول-3 کنسلٹنٹ، ڈپارٹمنٹ آف پرسنل، وزارت زراعت و دیہی امور، چین نے کی۔
ان کے ہمراہ دیگر ماہرین میں پروفیسر جیا یا شیونگ، ڈائریکٹر ڈویڑن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مینجمنٹ، انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل سائنسز، سی اے اے ایس شامل تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ زرعی تحقیق کو براہ راست کسانوں اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ سائنسی ایجادات کو عملی حل میں ڈھالا جا سکے جو غذائی تحفظ اور معیشت کی ترقی میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ پی اے آر سی کی تبدیلی کے روڈ میپ میں واضح ٹائم لائنز، قابلِ پیمائش اہداف اور پائیدار سرمایہ کاری کے طریقہ کار شامل ہونے چاہئیں۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ سائنسدانوں کو ان کی جدت پر انعام دینا ضروری ہے کیونکہ باصلاحیت افراد کو روکنے کے لیے ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جو تحقیق کی تجارتی کاری سے جڑا ہو۔چینی وفد نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ سی اے اے ایس نے دو دہائیاں قبل اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا کیا تھا اور کامیابی سے انہیں حل کیا۔ انہوں نے پی اے آر سی کے مسائل کی نشاندہی کی جن میں مالی وسائل کی کمی، سائنسدانوں کے لیے ناکافی مراعات اور بین الاقوامی تعاون کے محدود مواقع شامل ہیں۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ طویل مدتی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے ساتھ مضبوط اشتراک سے ایک مسابقتی ماڈل اپنانا ضروری ہے۔وزیر نے پی اے آر سی اور سی اے اے ایس کے مابین وفود کے باہمی دوروں اور ایکسچینج پروگرامز کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستانی سائنسدانوں کو سی اے اے ایس کے تحقیقی ماڈل کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی اے آر سی اور سی اے اے ایس کے درمیان پہلے سے دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو اب عملی شکل دی جائے گی تاکہ مشترکہ کاوشیں نتیجہ خیز بن سکیں۔اجلاس کے اختتام پر رانا تنویر حسین نے اس عزم کو دہرایا کہ پی اے آر سی کی اصلاح حکومت کی قومی ترجیح ہے اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ چین کی شراکت اور پاکستان کے عزم کے ساتھ پی اے آر سی ایک جدید اور مضبوط تحقیقی ادارہ بن کر ابھرے گا جو جدید حل فراہم کرے گا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرے گا اور ملک کے غذائی مستقبل کو محفوظ بنائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رانا تنویر حسین نے ایک جدید اور سی اے اے ایس کرنے کے لیے پی اے ا ر سی
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں