پبلک اکا ئونٹس کمیٹی نے سندھ بھر کی لوکل کونسلز سے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی رپورٹ مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
پبلک اکا ئونٹس کمیٹی نے سندھ بھر کی لوکل کونسلز سے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی رپورٹ مانگ لی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 September, 2025 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس )سندھ اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی نے صوبے بھر کی یوسیز، ٹان و میونسپل کمیٹیز، میونسپل کارپوریشنز سمیت سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز سے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی ماہانہ رپورٹ طلب کرلی۔
پیر کے روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن قاسم سراج سومرو، محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری عامر حسین سمیت سکھر ڈویژن کے لوکل کونسلز کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سکھر ڈویژن کے لوکل کونسلز کے سال 2022 اور سال 2023 کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پی اے سی نے سندھ بھر کی یوسیز، ٹان و میونسپل کمیٹیز، میونسپل کارپوریشنز سمیت تمام لوکل کونسلز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کے سندھ حکومت لوکل کونسلز کو سالانہ 168 ارب روپے او زیڈ ٹی فنڈز جاری کر رہی ہے جس میں 80 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ بھی شامل ہیں تاہم لوکل کونسلز 168 ارب روپے کے او زیڈ ٹی فنڈز میں سے 30 فیصد بھی ترقیاتی کاموں پر خرچ نہیں کررہی جس کی وجہ سے کارکردگی پر عوام سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کے میونسپل کارپوریشن کو ماہانہ 10 سے 12 کروڑ، میونسپل و ٹان کمیٹیز کو ماہانہ 2 سے ڈھائی کروڑ اور یوسیز کو ماہانہ 10 سے 12 لاکھ روپے او زیڈ ٹی فنڈ فراہم ہوتا ہے تاہم لوکل کونسلز فنڈز کے استعمال کی رپورٹ کسی کو نہیں دے رہے ہیں اور یوسیز سمیت لوکل کونسلز کسی کو جوابدہ ہی نہیں سمجھتے اس لئے ہم ایسی کھلی چھوٹ نہیں دے سکتے لوکل کونسل کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
چیئرمین پی اے سی نے محکمہ بلدیات سے استفسار کیا کے کیا لوکل کونسلز ہر ماہ ملنے والے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی رپورٹ محکمے کو بھیجتی ہیں؟ جس پر محکمے کے ایڈیشنل سیکریٹری نے پی اے سی کو بتایا کے لوکل کونسلز محکمے کو یوٹیلائیزیشن رپورٹ نہیں بھیج رہیں۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کے اگر لوکل کونسلز او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی ماہانہ رپورٹ نہیں بھیج رہیں تو یہ کیسے معلوم ہوگا کے لوکل کونسلز فنڈز کہاں اور کیسے خرچ کر رہے ہیں؟
محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کے محکمہ بلدیات کے ریجنل ڈائریکٹرز کا کام ہے کہ وہ اپنے ڈویژن کی لوکل کونسلز کی انسپیکشن کریں۔کمیٹی رکن قاسم سراج سومرو نے کہا کے سندھ بھر کی متعدد یوسیز سمیت دیگر لوکل کونسلز میں تو 15منٹ میں او زیڈ ٹی کی رقم نکال لی جاتی ہے اور ہر دوسرے دن افسر تبدیل ہوجاتا ہے۔
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے لوکل کونسلز اگر ٹیکس کے پیسے عوام کی بہتری پر خرچ نہیں کریں گی تو جواب بھی لوکل کونسلز سے لیں گے پھر بدنامی سندھ حکومت اپنے سر پر کیوں لے؟ اس لئے یہ نہیں ہوسکتا کے سندھ حکومت بہتری کے لئے سالانہ 168 ارب روہے بھی فراہم کرے اور بدنامی بھی لے اس لئے اب لوکل کونسلز کو او زیڈ ٹی کی رقم یوٹیلائیزیشن رپورٹ جمع کرنے پر جاری ہوگی۔ کمیٹی رکن قاسم سراج سومرو نے کہا کہ جو لوکل کونسل ہر ماہ او زیڈ ٹی فنڈز کے متعلق یوٹیلائیزیشن رپورٹ جمع کرائے اس کو اگلے ماہ کی او زی ٹی رقم جاری کی جائے۔
اس موقع پر پی اے سی نے سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز سے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی ماہانہ رپورٹ طلب کرلی۔ پی اے سی نے سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کو سندھ حکومت کیطرف سے سالانہ جاری ہونے والے 168 ارب روپے کے او زی ٹی فنڈز کے استعمال اور اخراجات کے تفصیلات بھی جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔
پی اے سی نے محکمہ فنانس اور محکمہ بلدیات کو او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کے متعلق ماہانہ رپورٹ جمع نہ کرانے والی لوکل کونسلز کو او زی ٹی فنڈز کا اجرا نہ کرنے کی ہدایت کردی۔ پی اے سی نے محکمہ بلدیات کے ریجنل ڈائریکٹرز کو اپنے متعلقہ ڈویژن کے لوکل کونسلز کی انسپیکشن کرنے کا حکم دیا۔ پی اے سی نے محکمہ بلدیات کو سندھ بھر کے تمام لوکل کونسلز کے ملازمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائیزڈ کرنے اور ملازمین کی بایو میٹرک کرنے کی بھی ہدایت کی۔ پی اے سی نے سیلز ٹیکس کے 70 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے والے گمبٹ میونسپل کمیٹی کے چیف میونسپل آفسر کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربنگلادیش سے شکست بھول گئے، پاکستان سے جیتنا ضروری ہے، چیراتھ اسالانکا بنگلادیش سے شکست بھول گئے، پاکستان سے جیتنا ضروری ہے، چیراتھ اسالانکا سندھ حکومت کا 24 ستمبر کو تعطیل کا اعلان، نوٹی فکیشن جاری ڈرگ کورٹ نے بغیرلائسنس ادویات بیچنے کے الزام میں حکیم شہزادکو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا سپریم کورٹ کا ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ مجرمان کو اپیل کا حق دینے اور اس کیلئے 45 دن میں قانون سازی کا حکم حماس کا صدر ٹرمپ کو خط؛ غزہ جنگ بندی کے لیے بڑی پیشکش کردی صاحبزادہ فرحان نے بھارت کیخلاف ففٹی بناکر ‘گن شاٹ’ انداز میں جشن منانے کی وجہ بتا دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز فنڈز کے استعمال کی رپورٹ پی اے سی نے محکمہ محکمہ بلدیات کے کے لوکل کونسلز لوکل کونسلز کی لوکل کونسلز کو نے سندھ بھر کی ماہانہ رپورٹ سندھ حکومت نے کہا کے ارب روپے کا حکم
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :