کراچی:

سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صوبے بھر کی یوسیز، ٹاؤن و میونسپل کمیٹیز، میونسپل کارپوریشنز سمیت سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز سے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی ماہانہ رپورٹ طلب کرلی۔

پیر کے روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن قاسم سراج سومرو، محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری عامر حسین سمیت سکھر ڈویژن کے لوکل کونسلز کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سکھر ڈویژن کے لوکل کونسلز کے سال 2022ء اور سال 2023ء کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پی اے سی نے سندھ بھر کی یوسیز، ٹاؤن و میونسپل کمیٹیز، میونسپل کارپوریشنز سمیت تمام لوکل کونسلز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کے سندھ حکومت لوکل کونسلز کو سالانہ 168 ارب روپے او زیڈ ٹی فنڈز جاری کر رہی ہے جس میں 80 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ بھی شامل ہیں تاہم لوکل کونسلز 168 ارب روپے کے او زیڈ ٹی فنڈز میں سے 30 فیصد بھی ترقیاتی کاموں پر خرچ نہیں کررہی جس کی وجہ سے کارکردگی پر عوام سوال اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کے میونسپل کارپوریشن کو ماہانہ 10 سے 12 کروڑ، میونسپل و ٹاؤن کمیٹیز کو ماہانہ 2 سے ڈھائی کروڑ اور یوسیز کو ماہانہ 10 سے 12 لاکھ روپے او زیڈ ٹی فنڈ فراہم ہوتا ہے تاہم لوکل کونسلز فنڈز کے استعمال کی رپورٹ کسی کو نہیں دے رہے ہیں اور یوسیز سمیت لوکل کونسلز کسی کو جوابدہ ہی نہیں سمجھتے اس لئے ہم ایسی کھلی چھوٹ نہیں دے سکتے لوکل کونسل کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

چیئرمین پی اے سی نے محکمہ بلدیات سے استفسار کیا کے کیا لوکل کونسلز ہر ماہ ملنے والے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی رپورٹ محکمے کو بھیجتی ہیں؟ جس پر محکمے کے ایڈیشنل سیکریٹری نے پی اے سی کو بتایا کے لوکل کونسلز محکمے کو یوٹیلائیزیشن رپورٹ نہیں بھیج رہیں۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کے اگر لوکل کونسلز او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی ماہانہ رپورٹ نہیں بھیج رہیں تو یہ کیسے معلوم ہوگا کے لوکل کونسلز فنڈز کہاں اور کیسے خرچ کر رہے ہیں؟

محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کے محکمہ بلدیات کے ریجنل ڈائریکٹرز کا کام ہے کہ وہ اپنے ڈویژن کی لوکل کونسلز کی انسپیکشن کریں۔

کمیٹی رکن قاسم سراج سومرو نے کہا کے سندھ بھر کی متعدد یوسیز سمیت دیگر لوکل کونسلز میں تو 15منٹ میں او زیڈ ٹی کی رقم نکال لی جاتی ہے اور ہر دوسرے دن افسر تبدیل ہوجاتا ہے۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے لوکل کونسلز اگر ٹیکس کے پیسے عوام کی بہتری پر خرچ نہیں کریں گی تو جواب بھی لوکل کونسلز سے لیں گے پھر بدنامی سندھ حکومت اپنے سر پر کیوں لے؟ اس لئے  یہ نہیں ہوسکتا کے سندھ حکومت بہتری کے لئے سالانہ 168 ارب روہے بھی فراہم کرے اور بدنامی بھی لے اس لئے اب  لوکل کونسلز کو او زیڈ ٹی کی رقم یوٹیلائیزیشن رپورٹ جمع کرنے پر جاری ہوگی۔

کمیٹی رکن قاسم سراج سومرو نے کہا کہ جو لوکل کونسل ہر ماہ او زیڈ ٹی فنڈز کے متعلق یوٹیلائیزیشن رپورٹ جمع کرائے اس کو اگلے ماہ کی او زی ٹی رقم جاری کی جائے۔

اس موقع پر پی اے سی نے سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز سے او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی ماہانہ رپورٹ طلب کرلی۔ پی اے سی نے سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کو سندھ حکومت کیطرف سے سالانہ جاری ہونے والے 168 ارب روپے کے او زی ٹی فنڈز کے استعمال اور اخراجات کے تفصیلات بھی جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

پی اے سی نے محکمہ فنانس اور محکمہ بلدیات کو او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کے متعلق ماہانہ رپورٹ جمع نہ کرانے والی لوکل کونسلز کو او زی ٹی فنڈز کا اجراء نہ کرنے کی ہدایت کردی۔

پی اے سی نے محکمہ بلدیات کے ریجنل ڈائریکٹرز کو اپنے متعلقہ ڈویژن کے لوکل کونسلز کی انسپیکشن کرنے کا حکم دیا۔  پی اے سی نے محکمہ بلدیات کو سندھ بھر کے تمام لوکل کونسلز کے ملازمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائیزڈ کرنے اور ملازمین کی بایو میٹرک کرنے کی بھی ہدایت کی۔

پی اے سی نے سیلز ٹیکس کے 70 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے والے گمبٹ میونسپل کمیٹی کے چیف میونسپل آفسر کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز او زیڈ ٹی فنڈز کے استعمال کی پی اے سی نے محکمہ محکمہ بلدیات کے کے لوکل کونسلز لوکل کونسلز کو لوکل کونسلز سے لوکل کونسلز کی نے سندھ بھر کی ماہانہ رپورٹ سندھ حکومت نے کہا کے ارب روپے

پڑھیں:

گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث

گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔

سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔

حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔

یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف