نیویارک :نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نےکہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں  امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لئے کی جانے والی تمام مثبت کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے نیویارک میں قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کی میزبانی میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں اردن اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزرائے اعظم جبکہ مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بعض اہم امور پر مشترکہ حکمت عملی کے لئے آراء کا تبادلہ اور ہم آہنگی ظاہر کی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور اسلامی ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کو مشرق وسطیٰ کے اپنے مسلمان بھائیوں سے گہری محبت ہے اور وہ امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لئے کی جانے والی تمام مثبت کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

دریں اثناء نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحٰق ڈار نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ دولتِ مشترکہ وزرائے خارجہ کے اجلاس (سی فام) میں شرکت کی۔ یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔
وزارت خارجہ کے مطابق اپنی تقریر میں نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے دولتِ مشترکہ کے لیے پاکستان کی پختہ حمایت اور اس منفرد ممالک کے خاندان کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے تنظیم کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں مؤثر طور پر جواب دینے اور اپنے تمام رکن ممالک کو عملی فوائد پہنچانے کی صلاحیت کو یقینی بنانے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔
بین الاقوامی برادری کو درپیش متعدد اور یکے بعد دیگرے آنے والے بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دولتِ مشترکہ کو امن قائم کرنے اور مکالمے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام جاری رکھنا چاہیے، جہاں اتفاقِ رائے اور تعاون تنازعات کے حل اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے ماحولیاتی اقدامات پر دولتِ مشترکہ کے کام کی بھرپور حمایت کی اور رکن ممالک کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے میں مدد دینے پر مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے دولتِ مشترکہ کے 56 متنوع رکن ممالک کو نوجوانوں کے بااختیار بنانے، ڈیجیٹل تبدیلی، تجارت اور کاروبار کے فروغ کے لیے یکجا کرنے میں تنظیم کے منفرد کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دولتِ مشترکہ کے نوجوانوں کے ایجنڈے کی قیادت کرنے پر فخر ہے، تاکہ ہماری نوجوان نسل ایک زیادہ خوشحال اور پُرامن مستقبل تشکیل دینے کے قابل ہو۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دولتِ مشترکہ ایک دوسرے سے جوڑنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں بھی صفِ اوّل میں رہے گا اور ایسی اقدامات کی سرپرستی کرے گا جو دولتِ مشترکہ میں ڈیجیٹل، فزیکل، ریگولیٹری اور سپلائی چین روابط کو مضبوط بنائیں۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مشترکہ کے ڈار نے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ