وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شازا فاطمہ خواجہ کریں گی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)ای کامرس گیٹ وے کے تحت 3 روزہ آئی ٹی سی این ایشیا کراچی کا 26واں ایڈیشن کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہو گا۔ نمائش کا آغاز وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شازا فاطمہ خواجہ کریں گی۔آئی ٹی اور ٹیلی کام نمائش 23 سے 25 ستمبر 2025 تک جاری رہے گی۔ تاریخی ایونٹ وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے وژنری اقدام، ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان کے ساتھ شراکت داری میں پیش کیا جا رہا ہے اور اسے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی توثیق حاصل ہے ۔ گزشتہ سال آئی ٹی سی این ایشیا میں 500 ملین ڈالر کے شاندار مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، اس سال، آئی ٹی سی این ایشیا کراچی 2025 میں مختلف ممالک کے وفود کی شاندار شرکت دیکھنے کو ملے گی، جہاں برطانیہ، ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور آسٹریلیا کے وفود عالمی ٹیک کلچر، مستقبل کے کاروباری رجحانات اور وژنری خیالات کی ایک شاندار ہم آہنگی میں یکجا ہوں گے۔یہ ایونٹ 50,000 سے زائد شرکاء کو اکٹھا کرے گا – جن میں ٹیک رہنما، سٹارٹ اپس، سرمایہ کار، پالیسی ساز اور سفارت کار شامل ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔