کراچی پریس کلب پر ٹیچرز کا جوائننگ لیٹرز نہ ملنے پر احتجاج، متعدد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
کراچی میں سندھ بھر سے آئے آئی بی اے ٹیسٹ پاس میوزک ٹیچرز امیدواروں نے جوائننگ آرڈرز نہ ملنے کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر اپنے مطالبات کے حق میں آٹھویں روز بھی احتجاج جاری رکھا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ دو سال قبل ٹیسٹ پاس کرچکے ہیں اور آفر لیٹرز بھی جاری کیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود اب تک انہیں جوائننگ نہیں دی گئی، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ریڈ زون کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی، تاہم پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے انہیں روک دیا اور پریس کلب تک محدود کردیا۔
پولیس کی کارروائی کے دوران متعدد اساتذہ کو حراست میں بھی لیا گیا، جبکہ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا اور شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور جوائننگ آرڈرز کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
بعدازاں آئی بی اے پاس میوزک ٹیچرز کی جانب سے صابری بیگ شہید روڈ پر دھرنا بھی دیا، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
تاہم شام کے وقت دھرنا ختم کرکے مظاہرین اپنے کیمپ کی جانب روانہ ہوگئے، جس کے بعد روڈ کو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق دھرنے کے دوران حراست میں لیےگئے امیدواروں کو کچھ دیر بعد رہا کردیا جائے گا۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر تعلیم سندھ، سید سردار علی شاہ نے کہا کہ بھرتی کا عمل مکمل طور پر شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا تھا، امیدوار اگر اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو ان کے پاس درست راستہ عدالت سے رجوع کرنا ہے۔اگر امیدوار راضی ہوں تو حکومت دوبارہ خالی آسامیوں کے لیے اشتہار جاری کرسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پریس کلب
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک