کینیڈا کا 141 ارب ڈالر کا بجٹ پیش، امریکی ٹیکسوں کے اثرات سے نمٹنے پر توجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اوٹاوا: کینیڈا کی حکومت نے 141 ارب کینیڈین ڈالر (121 ارب امریکی ڈالر) کا نیا وفاقی بجٹ پیش کردیا، جسے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی تجارتی پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بجٹ پارلیمنٹ میں منظور ہونا ابھی غیر یقینی ہے کیونکہ حکمران لبرل پارٹی کے پاس ایوان میں اکثریت نہیں اور بجٹ کی منظوری کے لیے انہیں کم از کم تین دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی، یہ بجٹ ان کینیڈین شہریوں اور صنعتوں کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے جو امریکی ٹیرف کے باعث متاثر ہوئے ہیں یا جنہیں روزگار کے مواقع کھونے کا خدشہ ہے، وزیراعظم مارک کارنی نے بجٹ کو دلیرانہ اقدامات پر مبنی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسے منظور کرلیا گیا تو یہ ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
بجٹ کے مطابق 141 ارب ڈالر کے مجوزہ اخراجات میں سے 51 ارب ڈالر کٹوتیوں اور بچتوں کے ذریعے پورے کیے جائیں گے، جن میں 40 ہزار سرکاری ملازمتوں میں کمی بھی شامل ہے۔ دوسری جانب، حکومت بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے رہائشی سہولیات میں توسیع اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
دفاعی اخراجات آئندہ پانچ سالوں میں بڑھا کر 81 ارب ڈالر تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ حکومت 500 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری کو کان کنی، ایٹمی توانائی اور مائع قدرتی گیس کے منصوبوں میں متحرک کرنے کی کوشش کرے گی۔
بجٹ میں چار سال کے دوران غیر ملکی امداد میں 2.
وزیر خزانہ فلیپ شمپین نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قواعد پر مبنی عالمی نظام اور تجارتی ڈھانچہ جو دہائیوں سے کینیڈا کی خوشحالی کا سبب رہا، اب تیزی سے بدل رہا ہے، اور یہی ہماری خودمختاری، خوشحالی اور اقدار کے لیے خطرہ بن رہا ہے، لبرل حکومت کے مطابق یہ بجٹ انہی چیلنجز کا حل ہے اور کینیڈا کو نئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق ارب ڈالر کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔