ہم اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کرتے ہیں، برطانیہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
برطانیہ کی وزیر خارجہ نے بدھ کی صبح دو ریاستی حل کانفرنس میں کہا کہ ایک فلسطینی ریاست فلسطینی عوام کا جائز حق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ کی وزیر خارجہ نے بدھ کی صبح دو ریاستی حل کانفرنس میں کہا کہ ایک فلسطینی ریاست فلسطینی عوام کا جائز حق ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، ایویٹ کوپر نے کہا کہ ہم برطانیہ کے تاریخی فیصلے کی تصدیق کرتے ہیں جس کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست فلسطینی عوام کا حق ہے۔ فلسطین کو تسلیم کرنا بہتر مستقبل کے حصول کا راستہ ہے۔ نیٹ ورک الجزیرہ کے مطابق، کوپر نے کہا کہ غزہ میں انسانی المیہ بڑھ رہا ہے اور نیتن یاہو کی کابینہ جنگ کو مزید شدت دے رہی ہے اور امداد کے داخلے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ہم اسرائیل اور اس کے عوام کی سلامتی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ حماس فلسطین کی حکومت میں مستقبل میں کوئی کردار نہیں رکھتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔