WE News:
2026-07-24@10:44:15 GMT

مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز تیار، لاگت کتنی؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز تیار، لاگت کتنی؟

دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مانگ نے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور توسیع کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر کیسے اثرانداز ہوگی؟ بین رپورٹ کا تجزیہ

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری بینک مورگن اسٹینلے کا کہنا ہے کہ اب سے لے کر سنہ 2029 تک دنیا بھر میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر تقریباً 3 ٹریلین ڈالر (3 ہزار ارب ڈالر) خرچ کیے جائیں گے۔

اس میں سے آدھی رقم تعمیراتی اخراجات پر خرچ ہوگی جبکہ باقی آدھی رقم مہنگے ہارڈویئر پر لگے گی جواے آئی کی طاقت کو ممکن بناتے ہیں۔

صرف برطانیہ میں اگلے چند سالوں کے دوران 100 نئے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جانے کی توقع ہے جن میں سے کئی مائیکروسافٹ کے لیے ہوں گے جس نے حال ہی میں برطانیہ میں اے آئی سیکٹر میں 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

اے آئی ڈیٹا سینٹرز عام ڈیٹا سینٹرز سے کیسے مختلف ہیں؟

روایتی ڈیٹا سینٹرز وہ جگہیں ہوتی ہیں جہاں ہماری تصاویر، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور کاروباری ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔ مگر اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی بات کچھ اور ہے۔

مزید پڑھیے: ریستورانوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آرڈرز لینا اکثر مضحکہ خیز بن جاتا ہے، جانیے کیسے؟

اے آئی کے بڑے ماڈلز، خاص طور پر لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم)، کو چلانے کے لیے انتہائی تیز رفتار، قریبی اور طاقتور کمپیوٹرز درکار ہوتے ہیں۔ ان میں استعمال ہونے والی نیویڈیا کی چپس کئی ملین ڈالرز مالیت کی ہوتی ہیں جنہیں انتہائی قریب ایک ساتھ نصب کیا جاتا ہے تاکہ پیرالل پروسیسنگ ممکن ہو سکے۔

یہ اے آئی کثافت ڈیٹا سینٹرز کی سب سے بڑی خوبی بھی ہے اور سب سے بڑا چیلنج بھی کیونکہ ہر چِپ کے درمیان صرف ایک میٹر کا فاصلہ بھی نینو سیکنڈ کی تاخیر پیدا کر دیتا ہے جو مجموعی کارکردگی پر اثر ڈالتی ہے۔

بجلی کی طلب میں زبردست اضافہ

ایسے ڈیٹا سینٹرز میں طاقتور چِپس کی بڑی تعداد نصب ہوتی ہے جس سے گیگا واٹس کے حساب سے بجلی استعمال ہوتی ہے۔ اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ کے دوران اچانک پیدا ہونے والی بجلی کی مانگ کو سینکڑوں گھروں کے بیک وقت کیٹل آن اور آف کرنے جیسا قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: مضامین لکھوانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار دماغ کو کمزور کرتا ہے، تحقیق میں انکشاف

ڈیٹا سینٹر انجینئرنگ کنسلٹنسی  دی اپ ٹائم انسٹیٹیوٹ کے ڈینیئل بیزو کہتے ہیں کہ عام ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں اے آئی کا لوڈ، پاور گرڈ پر ایک الگ ہی قسم کا دباؤ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تکنیکی چیلنج ہے بالکل ایسے جیسے اپولو پروگرام تھا۔

توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش

اس شدید توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مختلف کمپنیز نے متبادل راستے تلاش کیے ہیں۔

نیویڈیا کے  سی ای او جینسن ہوانگ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں وہ گرِڈ سے ہٹ کر گیس ٹربائنز کے استعمال کے حق میں ہیں تاکہ عام صارفین متاثر نہ ہوں۔

مائیکروسوفٹ نے توانائی کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جن میں  تھری مائیلز آئی لینڈ پر نیوکلیئر پاور کی بحالی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لیبارٹریوں میں تیار کردہ ‘مصنوعی دماغ’ کا حیران کن استعمال کیا ہے؟

گوگل کا ہدف ہے کہ وہ سنہ 2030 تک مکمل طور پر کاربن فری توانائی پر منتقل ہو جائے۔

امیزون ویب سروسز پہلے ہی دنیا میں تجدید پذیر توانائی کی سب سے بڑی خریدار ہے۔

ماحولیاتی اثرات اور تنقید

اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر بڑھتی توانائی کی مانگ کے ساتھ ساتھ ان کے ماحولیاتی اثرات پر بھی قانون ساز اداروں کی نظر ہے۔ خاص طور پر چِپس کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین

امریکی ریاست ورجینیا میں ایسے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو پانی کے استعمال سے مشروط کرنے کا بل زیر غور ہے۔

برطانیہ کے لنکن شائر میں ایک اے آئی فیکٹری پر اینگلین واٹر نے اعتراض کیا ہے کیونکہ وہ گھریلو مقاصد کے علاوہ پانی فراہم کرنے کے پابند نہیں۔

کیا یہ سب باتیں ہیں۔

بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ سرمایہ کاری کی رفتار ناقابل یقین ہے۔ ایک ڈیٹا سینٹر کانفرنس میں ایک ماہر نے تو اے آئی انڈسٹری کے دعووں کوایک نئی اصطلاح دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’Bragawatts’ (شیخی خور واٹس) ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ناسا نے سورج کی سرگرمیوں کی پیشگوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے لیا

ڈی ٹی سی پی میں ڈیٹا سینٹر کے ماہر زحل لمبوالا جو ہیں کہتے ہیں کہ سرمایہ کاری کو آخرکار منافع دینا ہوتا ہے ورنہ مارکیٹ کو خود اپنی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔

تاہم وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اے آئی کی اہمیت واقعی غیر معمولی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی کی اثر پذیری انٹرنیٹ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے اور اس لیے ان ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت بھی حقیقی ہے۔

اے آئی ڈیٹا سینٹرز ٹیکنالوجی کی دنیا کی نئی ’ریئل اسٹیٹ‘ بن چکے ہیں۔ اگرچہ ان پر آنے والی لاگت، توانائی کے مسائل اور ماحولیاتی خدشات اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ان کا وجود اور افادیت حقیقی ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

تاہم ماہرین متفق ہیں کہ اخراجات کا یہ طوفان ہمیشہ نہیں چلے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ مارکیٹ خود کو متوازن کر لے گی۔

دنیا بھر میں اے اائی  ڈیٹا سینٹرز کی موجودہ صورتحال

دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 11،800 فعال ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں جو مختلف اقسام کی ڈیجیٹل سروسز فراہم کرتے ہیں جیسے کلاؤڈ اسٹوریج، ویب ہوسٹنگ، اور دیگر آئی ٹی خدمات۔ ان میں سے تقریباً 4،000 ڈیٹا سینٹرز ایسے ہیں جو خاص طور پر اے آئی ورک لوڈز کے لیے موزوں یا اے آئی آپٹیمائزڈ ہیں یعنی وہ جدید چِپس، ہارڈویئر اور نیٹ ورکنگ انفراسٹرکچر سے لیس ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کو تربیت دی جا سکے یا چلایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ: بالغ شہریوں کی اکثریت مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ کیوں؟

علاوہ ازیں دنیا بھر میں 1،100 سے زائد ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں۔ یہ وہ بڑی سطح کی سہولیات ہیں جو کئی میگا واٹ سے لے کر گیگا واٹ تک توانائی استعمال کرتی ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد اے آئی کے لیے وقف یا مخصوص کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگلے چند سالوں میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر مزید ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر متوقع ہے۔ اس پر خاص طور پر امریکا، چین، یورپ، اور برطانیہ جیسے خطوں میں ٹیکنالوجی کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی ڈیٹا سینٹرز اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی لاگت مصنوعی ذہانت ڈیٹا سینٹرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت ڈیٹا سینٹرز اے ا ئی ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی دنیا بھر میں سرمایہ کاری میں اے ا ئی اے ا ئی کی ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ