یورپ میں گرمی سے 60ہزار ہلاکتوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) براعظم یورپ پر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کے بارے میں ایک نئے انتباہ میں جاری کی گئی ایک بڑی تحقیق کے مطابق گزشتہ سال کی ریکارڈ توڑ گرمیوں کے دوران یورپ میں ہیٹ ویوز سے 60 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط سے دوگنا تیزی سے بڑھا ہے۔ اسپین میں مقیم محققین نے بتایا کہ ہنگامی وارننگ سسٹم خطرناک گرمی کی لہروں سے پہلے سب سے زیادہ کمزور خاص طور پر معمر افراد سو خبردار کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یورپ نے 2024 ء میں ایک غیر معمولی مہلک موسم گرما کا مشاہدہ کیا جس میں گرمی سے متعلق 60 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں۔ اس سے گزشتہ 3موسموں میں گرمی سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 81 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بارسلونا انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کے محققین 53کروڑ 90لاکھ کی آبادی پر محیط 32 یورپی ملکوں کے علاقوں سے اموات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے اس اعداد و شمار تک پہنچے ہیں۔ مطالعہ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ گزشتہ موسم گرما سے مرنے والوں کی تعداد 62775 تھی۔ یہ گرمیاں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے یورپ اور دنیا میں سب سے زیادہ گرم تھیں۔یہ تعداد 2023 ء کے موسم گرما میں ریکارڈ کی گئی 50ہزار 798 اموات سے 25 فیصد زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی یہ تعداد 2022 ء میں ریکارڈ کی گئی 67ہزار 873 سے کم ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں گرمی سے ہونے والی اموات کی سب سے زیادہ تعداد اٹلی میں ریکارڈ کی گئی جس میں تقریباً 19 ہزار اموات ہوئیں۔ اس کے بعد اسپین اور جرمنی کا نمبر ہے۔ ان میں سے ہر ایک میں 6ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ مطالعے کے مرکزی مصنف تھامس جانسن کے مطابق اس قسم کے مطالعے میں غیر یقینی صورتحال کے کئی ذرائع ہیں جن کی وجہ سے ان اعداد و شمار کو حتمی اور درست نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ ان غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مطالعہ نے 35ہزار سے 85ہزار اموات تک کے مزید مبہم تخمینے فراہم کیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریکارڈ کی گئی سے زیادہ
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔