اسرائیلی چینل 12 ٹی وی کے مطابق الجولانی نے کہا ہے کہ وہ یہ جاننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا شامی سرزمین کے اندر اسرائیل کے اقدامات کا مقصد توسیع پسندی ہے یا اس کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ابو محمد الجولانی پر امریکا کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ وہ وہاں اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کریں۔ سکیورٹی معاہدے کی زیادہ تر تفصیلات پر ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے کے فریم ورک میں یہ شامل ہے کہ اسرائیل شام کے اندر 10 کلومیٹر گہرائی میں واقع جبل الشیخ اور کئی دوسرے مقامات پر کنٹرول جاری رکھے گا۔

معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج شام کے جنوب میں نہیں رہیگی، لیکن اسرائیلی فضائیہ کو شام کی فضائی حدود میں کارروائی کی مکمل آزادی ہوگی۔ معاہدے کے مسودے میں واضح طور پر ایک شق یہ بھی شامل ہے کہ دونوں فریق، امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر شامی دروز کے رہنما شیخ حکمت الحجری پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے کہ وہ جبل الدروز میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کی تعیناتی کے حوالے سے دمشق حکومت کے ساتھ اتفاق کریں، لیکن الحجری نے اسے مسترد کیا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 ٹی وی نے اپنی رپورٹ کے آخر میں بتایا ہے کہ شامی صدر نے ان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سلسلے میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس پیش رفت کا تعلق اسرائیل کے ساتھ مصالحت اور تعلقات کو معمول پر لانے سے نہیں ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ وہ یہ جاننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا شامی سرزمین کے اندر اسرائیل کے اقدامات کا مقصد توسیع پسندی ہے یا اس کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے کے ساتھ کے اندر

پڑھیں:

کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار