الجوالنی نے شام کے اندر 10 کلومیٹر گہرائی میں واقع جبل الشیخ اسرائیل کو دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسرائیلی چینل 12 ٹی وی کے مطابق الجولانی نے کہا ہے کہ وہ یہ جاننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا شامی سرزمین کے اندر اسرائیل کے اقدامات کا مقصد توسیع پسندی ہے یا اس کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ابو محمد الجولانی پر امریکا کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ وہ وہاں اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کریں۔ سکیورٹی معاہدے کی زیادہ تر تفصیلات پر ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے کے فریم ورک میں یہ شامل ہے کہ اسرائیل شام کے اندر 10 کلومیٹر گہرائی میں واقع جبل الشیخ اور کئی دوسرے مقامات پر کنٹرول جاری رکھے گا۔
معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج شام کے جنوب میں نہیں رہیگی، لیکن اسرائیلی فضائیہ کو شام کی فضائی حدود میں کارروائی کی مکمل آزادی ہوگی۔ معاہدے کے مسودے میں واضح طور پر ایک شق یہ بھی شامل ہے کہ دونوں فریق، امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر شامی دروز کے رہنما شیخ حکمت الحجری پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے کہ وہ جبل الدروز میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کی تعیناتی کے حوالے سے دمشق حکومت کے ساتھ اتفاق کریں، لیکن الحجری نے اسے مسترد کیا ہے۔
اسرائیلی چینل 12 ٹی وی نے اپنی رپورٹ کے آخر میں بتایا ہے کہ شامی صدر نے ان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سلسلے میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس پیش رفت کا تعلق اسرائیل کے ساتھ مصالحت اور تعلقات کو معمول پر لانے سے نہیں ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ وہ یہ جاننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا شامی سرزمین کے اندر اسرائیل کے اقدامات کا مقصد توسیع پسندی ہے یا اس کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کے کے ساتھ کے اندر
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘