لاہور پریس کلب سے خطاب کرنے پر خالصتانی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں پر انڈیا میں مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
امریکا میں مقیم خالصتانی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں اور اُن کی تنظیم سکھس فار جسٹس کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یہ کارروائی اس ویڈیو کے بعد کی گئی جس میں پنوں نے یوم آزادی پر وزیرِاعظم نریندر مودی کو قومی پرچم لہرانے سے روکنے پر 11 کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی فوج کو پنجاب سے گزر کر پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دیں گے، سکھ رہنما گرپتونت سنگھ
قومی تحقیقاتی ایجنسی نے یہ مقدمہ اُس ویڈیو کی بنیاد پر درج کیا جس میں پنوں نے بھارت کی خودمختاری کو کھلے عام چیلنج کیا۔ یہ اعلان 10 اگست کو لاہور پریس کلب میں منعقدہ ’میٹ دی پریس‘ تقریب کے دوران کیا گیا جس سے پنوں نے امریکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں پنوں نے بھارت کے خلاف تقریر کرتے ہوئے ’خالصتان کا نقشہ‘ جاری کیا جس میں پنجاب، دہلی، ہریانہ اور ہماچل پردیش کو شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں معصوموں کا خون، مودی ذمہ دار ہے: گرپتونت سنگھ پنوں
ایف آئی آر کے مطابق پنوں نے بھارت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے اور سکھ برادری کو بھارت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ سکھس فار جسٹس نے بھارت کے خلاف لڑنے کے لیے ‘شہدا گروپ’ تشکیل دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
india SIKHS FOR JUSTICE سکھس فار جسٹس گرپتونت سنگھ پنو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سکھس فار جسٹس گرپتونت سنگھ پنو گرپتونت سنگھ نے بھارت کے خلاف
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔