پی آئی اے برطانیہ کیلئے براہ راست فضائی آپریشن کا آغاز کب کریگی؟ خوشخبری آگئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک : قومی ائیرلائن پی آئی اے آئندہ ماہ برطانیہ کیلئے براہ راست فضائی آپریشن کا آغاز کرے گی ، ابتدائی مرحلے میں مانچسٹر کیلئے پروازیں چلائی جائیں گی۔ اسکے علاوہ لندن اور برمنگھم کے لیے بھی سروس جلد شروع کی جائے گی۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو برطانیہ کے لیے تھرڈ کنٹری آپریٹر (TCO) کی منظوری مل گئی ہے، جس کے بعد قومی ایئرلائن آئندہ ماہ سے برطانیہ کے لیے براہ راست فضائی آپریشن شروع کرے گی۔
کوٹ لکھپت ؛ڈمپر کی ٹکر سے 2 موٹرسائیکل سوار جاں بحق
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازوں کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ بعد ازاں لندن اور برمنگھم کے لیے بھی سروس فراہم کی جائے گی۔
برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس حوالے سے پی آئی اے کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔پی آئی اے کو پانچ سال کے لیے سیکیورٹی اور کارگو سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں، جس کے تحت قومی ایئرلائن مسافروں اور کارگو دونوں کے لیے پروازیں آپریٹ کرسکے گی۔بین الاقوامی ہوابازی کے اداروں نے پی آئی اے کے سیفٹی اور آپریشنز پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
لاہور میں 273 ٹریفک حادثات؛ 2 افراد جاں بحق335 زخمی
ترجمان کے مطابق پی آئی اے کی ٹیم نے گزشتہ پانچ سال کے سخت آڈٹس میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد یہ منظوری دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔