ایشیا کپ سپرفورمرحلہ: بنگلہ دیش کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کرفیلڈنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: ٹی 20ایشیا کپ سپر فور مرحلے کے چوتھے میچ میں بنگلہ دیش نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس کی عدم موجودگی میں جاکر علی ٹیم کی قیادت کریں گے، لٹن داس تاحال انجری سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔
بنگلہ دیش نے بھارت کے خلاف اہم میچ کے لیے پلیئنگ الیون میں 4 تبدیلیاں کی ہیں جبکہ بھارت کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ بھارت نے سپر فور راؤنڈ میں پاکستان کو 6 وکٹوں سے جب کہ بنگلہ دیش نے سری لنکا کو 4 وکٹوں سے شکست دی ہے۔
سپر فور راؤنڈ میں پوائنٹس ٹیبل پر بھارت پہلے، پاکستان دوسرے، بنگلہ دیش تیسرے اور سری لنکا چوتھے نمبر پر موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔