عظمیٰ بخاری کا پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردِ عمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب کا پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہنا تھا کہ آپ اتنے سیانے ہوتے تو آج پنجاب میں آپ کی یہ حالت نہ ہوتی، آپ کچھ کرنے لائق ہوتے تو گھروں میں بیٹھ کر ہمیں نہ بتارہے ہوتے سیلاب کہاں آنا تھا کہاں بند ٹوٹنا تھا، ایسے فیصلے حکومتیں حالات اور واقعات کے مطابق کرتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل سامنے آگیا۔ اپنے ردِ عمل میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آپ پنجاب میں رہ کر پنجاب کا مقدمہ کب لڑیں گے۔؟ آپ چاہتے پنجاب میں لوگوں کو گندم، آٹا اور روٹی نہ ملے۔؟ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ گندم کا نقصان ہوا دوسری طرف کہہ رہے جو گندم ہے وہ بھی باہر بھیج دیں، ڈبویا ہے یا ڈوبا ہے اس کو سیلابی سیاست ہی کہتے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بار بار سندھ میں سیلاب آتا ہے تو آپ بار بار سندھ کو ڈبوتے ہیں۔؟ آپ سیاست کرنا نہیں چاہتے لیکن پوری پریس کانفرنس صرف اور صرف سیاست تھی اور کچھ بھی نہیں تھا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آپ نے آج تک سیلاب کے متاثرین کے لیے کیا کیا ہے۔؟ سوائے بیٹھ کر سیلابی سیاست کرنے کے اور نمبر ٹانگنے کے۔ انہوں نے کہا کہ آپ آئی ایم ایف کا بہانہ پنجاب پر لگا رہے ہیں، سندھ میں گندم خریدی۔؟ سندھ میں گندم نہ خریدنے پر کونسے رولز اپلائی ہونگے۔؟ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف بلاول بھٹو نے بھی کی، اسی لیے سندھ کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ کاش ان کے پاس بھی مریم نواز جیسی وزیراعلیٰ ہوتی۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوئی بی آئی ایس پی ختم نہیں کرنا چاہتا، سوال یہ ہے اس کو سیلاب میں استعمال کیوں کرنا چاہتے ہیں۔؟ بی آئی ایس پی کا اپنا قانون اور طریقہ کار ہے، اس کو بار بار سیلاب میں کیوں لا رہے ہیں۔؟ اس کو سیاست ہی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اتنے سیانے ہوتے تو آج پنجاب میں آپ کی یہ حالت نہ ہوتی، آپ کچھ کرنے لائق ہوتے تو گھروں میں بیٹھ کر ہمیں نہ بتارہے ہوتے سیلاب کہاں آنا تھا کہاں بند ٹوٹنا تھا، ایسے فیصلے حکومتیں حالات اور واقعات کے مطابق کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات پریس کانفرنس نے کہا کہ ہوتے تو تھا کہ
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔