7 ارب ڈالر کا پروگرام؛ آئی ایم ایف جائزہ مشن پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن 7 ارب ڈالر پروگرام پر مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن اسلام آباد کے بجائے کراچی پہنچا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج سے تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے۔
آئی ایم ایف جائزہ مشن اسٹیٹ بینک میں تکنیکی مذاکرات شروع کرے گا، مشن دو ہفتے تک پاکستان کی معیشت کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قسط کی ادائیگی مشن رپورٹ سے مشروط ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی ملاقات،دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال
آئی ایم ایف جائزہ مشن سیلاب کے معیشت اور بجٹ اہداف پر اثرات کا بھی جائزہ لے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایم ایف جائزہ مشن آئی ایم ایف
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔