حالات خراب ہوتے ہی ضلعی انتظامیہ نے انڈین سول سکیورٹی کوڈ کی دفعہ 144 اور دفعہ 163 نافذ کردی۔ کارگل، زنسکار، نوبرا، دراس، چانگتھانگ اور لامایورو میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع لیہہ میں بدھ کو ریاستی درجے (اسٹیٹ ہُڈ) اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر شٹر ڈاؤن (ہڑتال) کے دوران احتجاج کے دوران پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے، جب کہ مظاہروں کے دوران پچاس سے زائد گرفتار اور درجنوں شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ وہیں اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے لیہہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفتر کو آگ لگا دی اور سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی بھی نذرِ آتش کر دی۔ اب تازہ خبر کے مطابق بدھ کو بھڑک اٹھنے والے تشدد کے بعد صورتحال پر قابو پانے کے لئے لداخ کے لیہہ میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس اب تک 50 افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بدامنی اس وقت بڑھ گئی جب لیہہ اپیکس باڈی (LAB) کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کے نفاذ کے مطالبے کے لئے بند کے دوران احتجاج پُرتشدد ہوگیا۔ مظاہرین نے بی جے پی کے دفتر اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور ہل کونسل ہیڈکوارٹر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ کارگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA) نے موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کی حمایت میں بند کا اعلان کیا تھا۔ حالات خراب ہوتے ہی ضلعی انتظامیہ نے انڈین سول سکیورٹی کوڈ کی دفعہ 144 اور دفعہ 163 نافذ کر دی۔ کارگل، زنسکار، نوبرا، دراس، چانگتھانگ اور لامایورو میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

ہنگامہ آرائی کے درمیان سونم وانگچک نے اپنا 15 روزہ روزہ توڑ دیا اور نوجوانوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدم تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن بدھ کو پیش آنے والے واقعات نے امن کے پیغام کو کمزور کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے تشدد کے لئے سیاسی طور پر محرک بیانات کو ذمہ دار ٹھہرایا، جب کہ لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے اسے ایک سازش قرار دیا۔ لداخ کے مستقبل پر مودی حکومت اور مقامی تنظیموں کے درمیان اگلی بات چیت 6 اکتوبر کو ہونے والی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے دوران گیا ہے کے لئے

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا