سکیورٹی سافٹ ویئر کی عدم فراہمی،سولر سمیت متعددبجلی کنکشنز التواء کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
شاہد سپراء: لیسکو میں سیکیورٹی سافٹ ویئر کی عدم فراہمی کے باعث سولر سسٹم سمیت متعدد کنکشنز التواء کا شکار ہو گئے۔
لیسکو میں سیکیورٹی سافٹ ویئرکی عدم فراہمی کی وجہ سے بڑے کمرشل اور صنعتی صارفین کے کنکشنز التواء کا شکار ہونے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق میٹر ساز کمپنی کی جانب سے سافٹ ویئر نہ ملنے پر میٹرز کی پروگرامنگ کا عمل روکاگیاہے,ایل ٹی میٹرز کی تنصیب سے قبل پروگرامنگ اور سیکیورٹی لازمی قرار دی گئی ہے, تاہم میٹرز ساز کمپنی کا سافٹ ویئر نہ ہونے سے پروگرامنگ نہیں کی جا سکی۔
لیسکو کے آپریشن سرکلز نے بڑی تعداد میں میٹرز ایم اینڈ ٹی سرکلز پہنچا دیئے لیکن ایم اینڈ ٹی سرکلز کے پاس سافٹ ویئر کی عدم دستیابی کے باعث کنکشن التواء کا شکار ہو گئے ہیں۔
امریکی بحری جہاز دو روزہ دورے پر کراچی بندرگاہ پہنچ گیا
میٹرز کی پروگرامنگ کے لئے میٹر ساز کمپنی لیسکو کو سافٹ ویئر فراہم کرتی ہے جس کی مدد سے پروگرامنگ کر کے میٹرز کو سیلز لگا کر محفوظ کیا جاتا ہے،میٹرز کو محفوظ بنانے کے لئے پروگرامنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: التواء کا شکار سافٹ ویئر کی عدم
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔