data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور سنگِ میل عبور کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی خلائی ادارہ سپارکو اکتوبر 2025 میں ایک جدیدہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے جا رہا ہے، جو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کی پیش رفت کو نئی سمت عطا کرے گا۔

یہ جدید سیٹلائٹ زرعی ترقی، معدنی وسائل کی تلاش، فضائی آلودگی کی نگرانی، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابی صورتحال کے مؤثر تجزیے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف قدرتی وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی بلکہ ملکی معیشت اور پالیسی سازی کے عمل کو بھی جدید بنیادیں فراہم ہوں گی۔

سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف خان نے ایک ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ زمین کے وسائل کی انتہائی درست اور جدید معلومات فراہم کرے گا۔

محمد یوسف خان کا کہنا ہے کہ جہاں پہلے کئی برسوں پر محیط سروے درکار ہوتے تھے، وہاں اب یہی تجزیے چند دنوں میں مکمل کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ماہرین کو معدنیات، مٹی، پانی اور زرعی پیداوار کے بارے میں شواہد پر مبنی فیصلے کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

چیئرمین سپارکو نے مزید کہا کہ پاکستان کا یہ قدم قدرتی وسائل کے پائیدار اور مؤثر استعمال کی راہ ہموار کرے گا، جب کہ اس کے دور رس اثرات ماحولیاتی تحفظ اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے میں نظر آئیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سپارکو جیسے قومی ادارے عالمی معیار کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو خطے میں خلائی ٹیکنالوجی کا مضبوط مرکز بنانے کی جانب گامزن ہیں۔ یہ سیٹلائٹ بلاشبہ ملکی تحقیق، پالیسی سازی اور سائنسی ترقی کے لیے ایک تاریخی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

دانیال عدنان

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرے گا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل