اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 25 ستمبر 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت ترقی کے بہت سے امکانات لائی ہے لیکن بے ضابطہ صورت میں اس سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے جنگی اثرات پر سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب کوئی دور کی چیز نہیں رہی بلکہ یہ دنیا میں موجود ہے اور حیرت انگیز رفتار سے روزمرہ زندگی، اطلاعاتی دنیا اور عالمی معیشت کو بدل رہی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت بین الاقوامی امن و سلامتی پر اثر ڈالے گی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ دنیا اس اثر کو کس طرح متشکل کرے گی۔ Tweet URL

یہ اجلاس رواں ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے صدر جمہوریہ کوریا کی درخواست پر بلایا گیا تھا،جس کی صدارت ملک کے صدر لی جائے میونگ نے کی اور دنیا بھر سے سربراہان مملکت و حکومت نے اس میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کا ذمہ داری سے استعمال کیا جائے تو یہ غذائی عدم تحفظ کی پیش گوئی کرنے، بارودی سرنگوں کی صفائی میں مدد دینے اور تشدد پھوٹنے سے پہلے اس کی نشاندہی جیسے کاموں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

لیکن اگر اس پر کوئی کنٹرول نہ ہو، تو اسے بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے حالیہ تنازعات میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہدف بندی، اہم تنصیبات پر سائبر حملے اور ایسی جعلی ویڈیوز و آڈیو کی مثالیں دیں جن سے شدت پسندی کو ہوا مل سکتی ہے یا سفارت کاری ناکام ہو سکتی ہے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ جعلی آڈیو اور ویڈیو کو تیار کرنے اور ان میں تبدیلی کرنے سے معلومات کی سچائی خطرے میں پڑ جاتی ہے، معاشرے میں تقسیم بڑھتی ہے اور سفارتی بحران جنم لے سکتے ہیں۔

انسانیت کا مقدر الگورتھم کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔چار اہم ترجیحات

انتونیو گوتیرش نے اس معاملے میں حکومتوں کے لیے چار اہم ترجیحات کا تعین کیا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال پر انسانی کنٹرول کو برقرار رکھنا، ایک مربوط اور عالمی سطح پر قابل عمل انضباطی نظام بنانا، معلومات کی سچائی کا تحفظ کرنا اور امیر و غریب ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کے فرق کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنا یہ مطالبہ دہراتے ہیں کہ ان خودکار مہلک ہتھیاروں پر پابندی عائد کی جائے جو انسانی کنٹرول کے بغیر کام کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے آئندہ سال تک قانونی طور پر پابند معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق فیصلے مشینوں کے نہیں بلکہ انسانوں کے اختیار میں ہونے چاہییں۔

سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے کے لیے بعض اہم اقدامات پہلے ہی شروع کیے جا چکے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک آزاد سائنسی پینل کا قیام اور اس کے انتظام سے متعلق ایک نیا عالمی مکالمہ شامل ہے جو جمعرات کو نیویارک میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں کہ سائنس، پالیسی اور عملی اقدامات کو آپس میں جوڑا جا سکے، ہر ملک کو اس مکالمے میں شامل کیا جائے اور انتشار میں کمی لائے جائے۔

UN Photo/Evan Schneider اے آئی پر اجلاس رواں ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے صدر جمہوریہ کوریا کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

وسیع تر رسائی کا مسئلہ

سٹینفورڈ یونیورسٹی میں انسانوں پر مرتکز مصنوعی ذہانت کے ادارے کی سینئر فیلو یی جن چوئی نے کونسل کو بتایا کہ فی الوقت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش رفت چند کمپنیوں اور ممالک تک محدود ہے۔ جب صرف چند افراد یا ادارے اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو باقی دنیا ان سے پیچھے رہ جاتی ہے۔

انہوں نے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مصنوعی ذہانت کے بڑے اور پیچیدہ نمونوں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اس کے متبادل طریقوں میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے لسانی اور ثقافتی تنوع کی نمائندگی کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا اور نشاندہی کی کہ مصںوعی ذہانت کے بیشتر معروف نمونے بہت سی غیر انگریزی زبانوں میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور محدود ثقافتی مفروضات کے عکاس ہیں۔

موثر ضابطوں کی ہنگامی ضرورت

انتونیو گوتیرش نے اختتامی کلمات میں خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے مؤثر ضابطوں کی تشکیل کے لیے دستیاب وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول سے لے کر ہوابازی کی سلامتی تک عالمی برادری نے ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی سے لاحق ایسے مسائل کا سامنا کیا ہے جو معاشروں کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں اور قواعد بنانے، ادارے قائم کرنے اور انسانی وقار پر زور دینے کے اقدامات کی صورت میں ان کا حل نکالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت بہت محدود ہے اور جلد از جلد مصنوعی ذہانت کو امن، انصاف، اور انسانیت کے لیے ایک مثبت قوت بنانے کی خاطر کام کرنا ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہ مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت کے سلامتی کونسل انہوں نے کہا نے کہا کہ کے لیے اور ان نے اور

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ