دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) صرف سائنسی تجربات یا کارپوریٹ منصوبوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب وہ سیاست جیسے انسانی و جذباتی شعبے میں بھی قدم رکھ چکی ہے۔ تازہ ترین مثال جاپان کی ہے، جہاں ایک سیاسی جماعت نے حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے اپنی قیادت ایک AI ماڈل کو سونپنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ جاپان کی چھوٹی مگر منفرد جماعت “پیتھ ٹو ری برتھ پارٹی” (Path to Rebirth Party) نے حالیہ انتخابات میں بدترین شکست کے بعد کیا ہے۔ پارٹی کے بانی اور سابق سربراہ شنجی ایشیمارو کے مستعفی ہونے کے بعد، انسانی قیادت سے مایوس ہو کر پارٹی نے اب “مشینی دماغ” سے امیدیں باندھ لی ہیں۔

شنجی ایشیمارو، جو ماضی میں جاپان کے ایک چھوٹے شہر کے میئر رہ چکے ہیں، نے 2024 کے ٹوکیو گورنر الیکشن میں اپنی غیر معمولی آن لائن مقبولیت کی بنیاد پر دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ اسی کامیابی کے جذبے سے انہوں نے جنوری 2025 میں “پیتھ ٹو ری برتھ پارٹی” کی بنیاد رکھی۔

مگر مسئلہ یہ تھا کہ پارٹی کے پاس کوئی واضح منشور یا نظریہ نہیں تھا۔ اس کے اراکین آزاد تھے کہ وہ اپنی مرضی کا ایجنڈا رکھیں۔ یہی بے سمتی اس جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی، اور جون و جولائی کے الیکشن میں ایک بھی نشست نہ جیتنے کے بعد ایشیمارو نے پارٹی چھوڑ دی۔
لیڈر ایک AI ہوگا
پارٹی کے ترجمان اور کیوٹو یونیورسٹی کے 25 سالہ پی ایچ ڈی اسکالر کوکی اوکومورا نے اعلان کیا کہ پارٹی کی قیادت اب ایک “AI ماڈل” سنبھالے گا، جو انسانی رہنما کے بجائے “ڈیجیٹل دماغ” کی صورت میں کام کرے گا۔
اوکومورا کا کہنا تھا AI لیڈر کا کردار یہ نہیں ہوگا کہ وہ پارٹی ممبران کو حکم دے یا کنٹرول کرے، بلکہ وہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، پالیسی سازی، اور انتخابی حکمتِ عملی میں رہنمائی فراہم کرے گا۔  تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ یہ AI سسٹم کس انداز میں، کس وقت اور کس دائرہ کار کے تحت پارٹی کی باگ ڈور سنبھالے گا۔
سیاست اور AI کا غیر متوقع ملاپ
یہ پہلا موقع نہیں جب AI کو سیاست میں آزمایا جا رہا ہو۔ کچھ ماہ قبل البانیہ میں بھی بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے AI کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اب جاپان میں ایک مکمل سیاسی جماعت کی کمان AI کے سپرد کرنے کا قدم دنیا بھر کے لیے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ